بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا:
(83-2382)…حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین اورحضرت سیِّدُنا خلاس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمَا حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔ کریم، رَء ُ وْفٌ رَّحیم صَلّٰی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے جب کوئی روزے کی حالت میں بھول کر کچھ کھا پی لے تو اپنے روزے کو پورا کرے کیونکہ اسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے کھلایا پلایا ہے۔‘‘ (۱)
قبولیت کی گھڑی:
(85-2384)…حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔ اکرم، رسول محتشم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جمعہ میں ایک ساعت ہے کوئی نمازی مسلمان اسے پاکر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے بھلائی طلب کرے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے ضرور دیتا ہے(۲) وہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی ھریرۃ، الحدیث:۹۱۴۷، ج۳، ص۳۵۳۔
صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب اکل الناسی وشربہ وجماعہ لایفطر، الحدیث:۱۱۵۵، ص۵۸۲۔
2…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد2، صفحہ319 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: اس ساعت میں مسلمان کی دعا قبول ہوتی ہے نہ کہ کافر کی ۔ نمازی متقی کی دعا قبول ہوتی ہے نہ کہ فساق و فجار کی جو جمعہ تک نہ پڑھیں صرف دعاؤں پر ہی زور دیں، یصلی میں اسی جانب اشارہ ہے ورنہ نماز کی حالت میں دعا کیسے مانگی جائے گی۔
دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1124صفحات پر مشتمل کتاب احیاء العلوم، جلد اول،صفحہ575تا577پر ہے: فضیلت والی گھڑی کے متعلق مختلف اقوال ہیں: (۱)…وہ مبارک ساعت طلوعِ آفتاب کے وقت ہے۔ (۲)…زوال کے وقت۔ (۳)…اذان کے وقت۔ (۴)…جب امام منبر پر چڑھ کر خطبہ شروع کردے۔ (۵)…جب لوگ نماز کے لئے کھڑے ہوں۔ (۶)…عصر کا آخری وقت ہے۔ (۷)…سورج غروب ہونے سے پہلے کا وقت ہے کہ شہزادی ٔکونین حضرت سیِّدَتُنا فاطمہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اس وقت کا خیال رکھا کرتیں اور اپنی خادمہ کو حکم دیتیںکہ وہ سورج کو دیکھے او راس کے جھکنے کے بارے میں آگاہ کرے۔ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا غروبِ آفتاب تک دعا واستغفار میں مشغول رہتیں اور بتاتیں کہ یہ وہ گھڑی ہے جس کا انتظار کیا جاتا ہے اور اسے پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے روایت کرتیں۔ (۸)…یہ ساعت شبِ قدر کی طرح (جمعہ کے)پورے دن میں مخفی ہے تا کہ اس کی حفاظت کی زیادہ سے زیادہ کوشش ہو۔ (۹)… شب قدر کی طرح جمعہ کے دن میں یہ ساعت تبدیل ہوتی رہتی ہے یہ معنی زیادہ مناسب ہے۔ اس میں ایک راز ہے جس کا ذکر علمِ معاملہ کے مناسب نہیں مگر جو کچھ حضورنبی ٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی …