Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
428 - 603
سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ’’میں نے خواب دیکھا کہ میرے سر پر سونے کا تاج ہے۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو! تمہارا باپ پردیس میں ہے اس کی بصارت زائل ہوچکی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ تم اس کے پاس آجاؤ۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ اس شخص نے آپ کی بات کا جواب نہ دیا بلکہ اپنا ہاتھ نیفے میں ڈالا اور باپ کی طرف سے بھیجا گیا خط نکالا جس میں لکھا تھا کہ میری بینائی زائل ہوچکی ہے، میں پردیس میں ہوں لہٰذا تم میرے پاس آجاؤ۔  (۱)
(2380)…حضرت سیِّدُنا ابن عون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن نے فرمایا: ’’بے شک یہ علم دین ہے لہٰذا چھی طرح غور کرو کہ کس سے حاصل کررہے ہو۔‘‘  (۲)
قابل اعتماد گروہ:
(2381)…حضرت سیِّدُنا عاصم احول عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن نے فرمایا: ’’ابتدائً   محدثین اسناد کے متعلق بحث و مباحثہ نہیں کرتے تھے لیکن جب فتنہ بپا ہوا تو حدیث بیان کرنے والے سے راوی کے متعلق معلومات لیتے۔ اگر اس کا تعلق اہلسنّت سے ہوتا تو اس سے مروی حدیث لیتے اور اگر اہل بدعت سے ہوتا تو نہ لیتے۔‘‘  (۳)
سیِّدُنا محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن
سے مروی احادیث 
	حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن نے حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ، حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری، حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر، حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس، حضرت سیِّدُنا عمران بن حصین، حضرت سیِّدُنا ابوبکرہ، حضرت سیِّدُنا انس بن مالک اور دیگر کئی صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے احادیث روایت کی ہیں۔ ان سے مروی چند روایات درج ذیل ہیں:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیر الاحلام الکبیر لابن سیرین، الباب الاربعون، التاج، ص۳۰۶۔
2…صحیح مسلم، المقدمۃ، باب بیان ان الاسناد من الدین…الخ، ص۱۱۔	3…المرجع السابق۔