Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
426 - 603
گود میں بچہ:
(2373)…حضرت سیِّدُنا ابوجعفر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کی خدمت میں خواب کی تعبیر پوچھنے کے لئے حاضر ہوا اور عرض کی: ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ میری گود میں ایک بچہ بیٹھا چیخ رہا ہے۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو! (بیوی، بچوں کو)چھڑی سے مت مارو۔‘‘
سانپ کا دودھ:
(2374)…حضرت سیِّدُنا حبیب عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُجِیْب سے مروی ہے کہ ایک عورت حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن سے خواب کی تعبیر پوچھنے کے لئے آئی اور عرض گزار ہوئی: ’’میں نے خواب دیکھا کہ میں سانپ کا دو دھ دوہ رہی ہوں۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’دودھ فطرت ہے جبکہ سانپ دشمن اور فطرت سے اس کا کوئی تعلق نہیں یہ وہ عورت ہے جس کے پاس خواہش کے پیروکار آتے ہیں۔‘‘  (۱)
دوفتنے:
(2375)…حضرت سیِّدُنا مغیرہ بن حفص رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں: حجاج بن یوسف نے خواب دیکھا کہ دو حوریں اس کے پا س آئیں ایک کو تو اس نے پکڑلیا جبکہ دوسری ہاتھ سے نکل گئی۔ چنانچہ، اس نے تعبیر معلوم کرنے کے لئے عبدالملک کو خواب لکھ بھیجا، عبدالملک نے جواباً لکھا کہ اے ابومحمد! مبارک ہو (پریشانی کی بات نہیں ہے) کیونکہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن سے جب اس کی تعبیر پوچھی گئی تو انہوں نے فرمایا: ’’اَخْطَاَتْ اِسْتُہُ الْحُفْرَۃ یعنی اس کی سرین گڑھے سے چوک گئی (۲) یہ دوفتنے ہیں ایک اسے پہنچے گا جبکہ دوسرے سے بچ جائے گا۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ (تعبیر کے مطابق ابن اشعث کی سَرکردَگی میں) بصورت جم غفیر ایک فتنہ حجاج کو پہنچا جبکہ دوسرے (یعنی ابن مُہَلَّب) کے فتنے سے بچ گیا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شرح السنۃ، کتاب الرؤیا، باب رؤیۃ العیون والمیاہ، الحدیث:۳۱۸۸، ج۶، ص۳۲۱۔
2…اَخْطَاَتْ اِسْتُہُ الْحُفْرَۃ: اسے اہل عرب بطور مثال اس کے لئے کہاکرتے تھے جو اپنی حاجت کے مقام تک نہ پہنچ سکا۔ (لسان العرب، ج۱، ص۲۱۵۴)