خوابوں کی تعبیر
(2370)…حضرت سیِّدُنا یوسف صباغ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن نے فرمایا: ’’جو خواب میں دیدار الٰہی سے مشرف ہوا وہ داخلِ جنت ہوگا۔‘‘ (۱)
دو مُنہ کا کوزہ:
(2371)…حضرت سیِّدُنا خالد بن دینار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار بیان کرتے ہیں: میں حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص نے حاضر خدمت ہو کر کہا: ’’اے ابوبکر! میں نے خواب میں دیکھا کہ دو ٹونٹیوں والے کوزے سے پانی پی رہا ہوں ایک ٹونٹی کا پانی میٹھا جبکہ دوسری کا کھارا ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا امام محمدبن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن نے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو! بیوی کے ہوتے ہوئے تم اس کی بہن (یعنی اپنی سالی) کا ارادہ کئے ہوئے ہو۔‘‘
شرمگاہ سے خون آنا:
(2372)…حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن سے پوچھا: ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ میری پیشاب گاہ سے خون آرہا ہے۔‘‘ آپ نے پوچھا: ’’کیاتم اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں مجامعت کرتے ہو(۲)؟‘‘ اس نے کہا: ’’ہاں!‘‘ تو آپ نے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو! آیَندہ ایسا مت کرنا۔‘‘ (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن الدارمی، باب فی رؤیۃ الرب تعالٰی فی النوم، الحدیث:۲۱۵۰، ج۲، ص۱۷۰۔
2…دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1250 صفحات پر مشتمل کتاب بہار شریعت، جلد اول، صفحہ 382 پر صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدْرُالطَّرِیْقَہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں: ہم بستری یعنی جماع اس (یعنی حیض کی) حالت میں حرام ہے۔ ایسی حالت میں جماع جائز جاننا کفر ہے اور حرام سمجھ کر کرلیا تو سخت گنہگار ہوا اس پر توبہ فرض ہے اور آمد کے زمانہ میں کیا تو ایک دینار اور قریب ختم کے کیا تو نصف دینار خیرات کرنا مستحب۔ اس حالت میں ناف سے گھٹنے تک عورت کے بدن سے مرد کا اپنے کسی عضو سے چھونا جائز نہیں جب کہ کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو شہوت سے ہو یا بے شہوت اور اگر ایسا حائل ہو کہ بدن کی گرمی محسوس نہ ہوگی تو حرج نہیں۔ ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے چھونے یا کسی طرح کا نفع لینے میں کوئی حرج نہیں۔ یوہیں بوس و کنار بھی جائز ہے۔
3…سنن الدارمی، باب اذا اتی الرجل امراتہ وہی حائض، الحدیث:۱۱۰۲، ج۱، ص۲۶۹۔