تکلیف دور کرنا (۳)…شک وشبہ سے دور رہنا۔‘‘
ایک ہزار اندھے:
(2367)…حضرت سیِّدُنا حسن بن دینار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن نے فرمایا: دو شخص اپنی اپنی زمین کی حد ِفاصل کے بارے میںجھگڑنے لگے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے زمین کو ان سے گفتگو کا حکم دیا۔ چنانچہ، زمین نے ان سے کہا: ’’اے مسکینو! یا کہا: اے بدبختو! تم میری وجہ سے جھگڑ رہے ہو حالانکہ تندرستوں کے علاوہ ایک ہزار اندھے میرے مالک بن چکے ہیں۔‘‘
آسمان پر سرخی اور چتکبرے گھوڑے:
(2368)…حضرت سیِّدُنا ہشام رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن نے فرمایا: ’’نواسۂ رسول، جگر گوشۂ بتول حضرت سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت سے قبل آسمان کے کناروں پر سرخی نہیں دیکھی گئی اور نہ ہی امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت سے پہلے جنگوں میں کبھی چتکبرے گھوڑے گم ہوئے۔‘‘ (۱)
سب سے زیادہ سعادت مند:
(2369)…حضرت سیِّدُنا مرحوم بن عبدالعزیز عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیْز بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد صاحب کو یہ کہتے سنا کہ جب یزید بن مُہَلَّب کا فتنہ بپا ہوا تو ایک شخص اور میں حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا: ’’اس فتنہ کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟‘‘ فرمایا: ’’امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت کے بعد سے اس وقت لوگوں میں جو سب سے زیادہ سعادت مند ہو اسے دیکھو اور اس کی اقتدا کرو۔‘‘ ہم نے کہا: ’’موجودہ زمانہ میں سب سے زیادہ سعادت مند تو حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ہی ہیں کہ جنہوں نے اپنا ہاتھ روک لیا۔‘‘ (۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۶۱۹، عثمان بن عفان، ج۳۹، ص۴۹۳۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۳۴۲۱، عبداللّٰہ بن عمر، ج۳۱، ص۱۸۲۔