Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
422 - 603
 عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن نے فرمایا: ’’پھلوں کے درمیان انار کو وہ اہمیت حاصل ہے جو ملائکہ کے مابین حضرت سیِّدُنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کو حاصل ہے۔‘‘
(2361)…حضرت سیِّدُنا جویریہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن سے کہا: ’’میں نے ایک بڑے ہونٹوں والی باندی خریدی ہے۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’یہ زیادہ بہتر ہے تاکہ تم اس سے لطف اندوز ہو سکو۔‘‘
کیا اشعار پڑھنا جائز ہے؟
(2362)…حضرت سیِّدُنا قرہ بن خالد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَاحِد بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن سے پوچھا: ’’کیا صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن آپس میں مذاق کیا کرتے تھے؟‘‘ تو آپ نے فرمایا: ’’صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم بھی دیگر لوگوں کی طرح تھے۔ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا مذاق کرتے اور یہ شعر  (۱) پڑھا کرتے تھے:
یُحِبُّ الْخَمْرَ مِنْ کَیْسِ النَّدَامِی          وَیَکْرَہُ اَنْ تُفَارِقَہُ الْفَلُوْس
	ترجمہ: شراب پینے والوں میں سے عقل مند شراب تو پسند کرتا ہے لیکن اس کے لئے پیسے خرچ کرنا پسند نہیں کرتا۔  (۲)
(2363)…حضرت سیِّدُنا ابوبکر بن شعیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں: نماز عصر کے وقت میں حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص نے حاضر خدمت ہوکر شعر کے متعلق کچھ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اشعار اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی، اگر اللّٰہ  و رسول (عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی تعریف کے اشعار ہوں یا ان میں حکمت کی باتیں ہوں اچھے اخلاق کی تعلیم ہو تو اچھے ہیں اور اگر لغو و باطل پر مشتمل ہوں تو برے ہیں۔ جو اشعار مباح ہوں ان کے پڑھنے میں حرج نہیں، اشعار میں اگر کسی مخصوص عورت کے اوصاف کا ذکر ہو اور وہ زندہ ہو تو پڑھنا مکروہ ہے اور مرچکی ہو یا خاص عورت کا ذکر نہ ہو تو پڑھنا جائز ہے۔ شعر میں لڑکے کا ذکر ہو تو وہی حکم ہے جو عورت کے متعلق اشعار کا ہے (صحابۂ کرام عَلَـیْہِمُ الرِّضْوَان کی شاعری ایسے برے اشعار سے خالی ہوا کرتی تھی)۔ اشعار کے پڑھنے سے اگر یہ مقصود ہو کہ ان کے ذریعہ سے تفسیر و حدیث میں مدد ملے یعنی عرب کے محاورات اور اسلوب کلام پر مطلع ہو، جیساکہ شعراء جاہلیت کے کلام سے استدلال کیا جاتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔(ماخوذ از بہارشریعت، ج۳، ص۵۱۴)
2…المعجم الکبیر، الحدیث:۱۳۰۶۶، ج۱۲، ص۲۰۶۔