سنت نبوی کا ادب:
(2355)…حضرت سیِّدُنا مہدی بن میمون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن اشعار پڑھا کرتے اور مزاح والی بات کہہ کر مسکراتے بھی تھے لیکن جب سنت نبوی کے متعلق کوئی بات ہوتی تو چہرے کا رنگ پھیکا پڑجاتا اور محتاط ہو کر بیٹھ جاتے۔ (۱)
خوش اخلاق:
(2356)…حضرت سیِّدُنا سری بن یحییٰ اور حضرت سیِّدُنا ابن شوذب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمَا روایت کرتے ہیں کہ بعض اوقات حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن اس قدر ہنستے کہ چت لیٹ جاتے اور پاؤں سمیٹ لیتے۔ (۲)
(2357)…حضرت سیِّدُنا حبیب بن شہید عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد بیان کرتے ہیں کہ ’’حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن نے کبھی بھی مصائب و آلام پر پریشانی کا اظہار نہیں کیا۔ بعض اوقات آپ اس قدر ہنستے کہ آنکھوں سے آنسو بہ پڑتے۔‘‘ (۳)
(2358)…حضرت سیِّدُنا ابوسہل یوسف بن عطیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ ’’حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن بہت زیادہ مزاح کرنے والے اور بہت زیادہ ہنسنے والے تھے۔‘‘ (۴)
(2359)…حضرت سیِّدُنا ابن شوذب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن اپنے اصحاب کے ساتھ ہنسی مزاق کیا کرتے اور فرماتے: ’’مُدَرْفِشِیْن کو خوش آمدید یعنی تم وہ ہو جو جنازوں میں حاضر ہوتے اور میت کو کاندھا دیتے ہو۔‘‘ (۵)
’’انار‘‘ کی اہمیت:
(2360)…حضرت سیِّدُنا سعید بن ابی عروبہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سیر اعلام النبلائ، الرقم:۶۱۳، محمد بن سیرین، ج۵، ص۴۹۱۔
2…تاریخ مدینہ دمشق، الرقم:۶۴۴۴، محمدبن سیرین، ج۵۳، ص۲۰۸، باختصار۔
3…سیر اعلام النبلائ، الرقم:۶۱۳، محمد بن سیرین، ج۵، ص۴۹۲۔
4…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۶۴۴۴، محمد بن سیرین، ج۵۳، ص۱۸۳۔
5…المعرفۃ والتاریخ، الحسن البصری، ج۲، ص۱۹۔