Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
417 - 603
 عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن مقروض ہوتے تو بہت مغموم ہوجاتے اور فرماتے: ’’میں جانتا ہو ںکہ یہ غم مجھے 40سال پہلے کی گئی ایک خطا کے سبب ہورہا ہے۔‘‘  (۲)
(2335)…حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن سری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن نے فرمایا: ’’میں اس خطا کو بخوبی جانتا ہوں جس کی وجہ سے مجھے مقروض ہونا پڑا وہ یہ ہے کہ میں نے ایک شخص کو 40سال پہلے اے مفلس! کہہ کر پکارا تھا۔‘‘  (۱)
(2336)…حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دار انی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن نے فرمایا: ’’اسلاف کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام سے گناہ کم سرزد ہوتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ کہاں سے سرزد ہوتے ہیں جبکہ موجودہ زمانہ کے لوگوں سے گناہ بکثرت سرزد ہوتے ہیں اور جانتے بھی نہیں کہ یہ کہاں سے وارد ہوتے ہیں۔‘‘  (۲)
شہرت کا خوف:
(2337)…حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن نے مجھ سے فرمایا: ’’اے ابومحمد! صرف شہرت کے خوف نے مجھے تمہارے ساتھ بیٹھنے سے باز رکھا ہے۔ مجھے مسلسل مصائب کا سامنا کرنا پڑا حتی کہ میں نے چبوترے پر رہائش اختیار کر لی۔ چنانچہ، کہا گیا کہ یہ محمد بن سیرین  ہے جس نے لوگو ں کے اموال کھائے اور اس پر بہت زیادہ قرض ہے۔‘‘  (۳)
(2338)…حضرت سیِّدُنا ابن عون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ ’’حضرت سیِّدُنا امام محمدبن سیر ین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن جب مقروض ہوجاتے تو کھانے کی مقدار میں کمی کردیتے حتی کہ مجھے ان پر ترس آتا کہ ان کا سالن ایک چھوٹی سی مچھلی ہوتی۔‘‘
(2339)…حضرت سیِّدُنا انس بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن بیان کرتے ہیں کہ ’’حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کے سات مخصوص اوراد تھے جنہیں وہ رات میں پڑھتے تھے، جب کبھی ان میں سے کوئی ورد رہ جاتا تو اسے دن میں پڑھ لیتے۔‘‘
سیِّدُنا ابن سیرین رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ کے شب و روز:
(2340)…حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن حارث عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَارِث بیان کرتے ہیں کہ ’’حضرت سیِّدُنا امام محمد بن
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۶۴۴۴، محمد بن سیرین، ج۵۳، ص۲۲۶۔
2…المرجع السابق، بتغیرقلیل۔	3…المرجع السابق، ص۲۲۸۔