Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
415 - 603
 کیا جاتا ہے جو آپ تلاوت کیا کرتے تھے)۔ چنانچہ، آپ یہ آیات مقدسہ تلاوت کرتے:
(1)…  اِنَّہُمْ کَانُوۡۤا اِذَا قِیۡلَ لَہُمْ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ۙیَسْتَکْبِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۵﴾   (پ۲۳، الصّٰفٰت:۳۵)
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللّٰہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں تو اونچے کھینچتے (تکبر کرتے) تھے۔
(2)… مَا سَلَکَکُمْ فِیۡ سَقَرَ ﴿۴۲﴾  قَالُوۡا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾  (پ۲۹، المدثر:۴۲،۴۳)
ترجمۂ کنزالایمان: تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے۔
(3)… لَا یَصْلٰىہَاۤ اِلَّا الْاَشْقَی ۙ﴿۱۵﴾ الَّذِیۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ﴿ؕ۱۶﴾   (پ۳۰، اللیل:۱۵،۱۶)
ترجمۂ کنزالایمان: نہ جائے گا اس میں مگر بڑا بدبخت جس نے جھٹلایا اور منھ پھیرا۔
	(چونکہ ان آیات میں مذکور اوصاف اہل توحید کے اوصاف نہیں ہیں، اس لئے اہل توحید کے بارے میں آپ سب سے زیادہ پرامید تھے۔) (۱)
ہلاکت و نجات:
(2330)…حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرمایا کرتے: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت ہے یا آگ (یعنی جس نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت نہ کی وہ جہنم میں جائے گا)۔‘‘ اور حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن فرمایا کرتے: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ہے یا آگ (یعنی نجات کا سبب نیکیاں نہیں بلکہ رحمت الٰہی ہے)۔‘‘  (۲)
(2331)…حضرت سیِّدُنا ابن عون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن نے فرمایا: ’’لوگ لمبی لمبی امیدیں رکھتے ہیں حتی کہ ماں کے پیٹ میں موجود حمل کی بھی امید رکھتے ہیں۔‘‘
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا، کتاب حسن الظن باللّٰہ، الحدیث:۶۶، ج۱، ص۸۳۔
2…الزہد للامام احمد بن حنبل، زہد محمد بن سیرین، الحدیث:۱۹۰۱، ص۳۲۸، بتغیر۔