Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
414 - 603
سے انکار کیا وہی کھارہے ہیں۔‘‘  (۱)
(2325)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن حبیب بن شہید عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سخت گرمی کے دن حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے میرے چہرے پر کمزوری کے آثار دیکھ کر فرمایا: ’’اے کنیز! حبیب کے لئے جلدی سے کھانا لے آؤ۔‘‘ یہ بات آپ نے کئی بار دہرائی، میں نے عرض کی: ’’مجھے کھانے کی خواہش نہیں ہے۔‘‘ فرمایا: ’’کھانا لے آؤ۔‘‘ باندی جب کھانا لے آئی تو میں نے کہا: ’’مجھے خواہش نہیں ہے۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’ایک لقمہ لے لو پھر تمہیں اختیار ہے (کھاؤ یا نہ کھاؤ)۔‘‘ چنانچہ، جب میں نے ایک لقمہ کھایا تو ہشاش بشاش ہوگیا اور سیر ہو کر کھایا۔  (۲)
(2326)…حضرت سیِّدُناہشام رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ ’’حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کے اہل خانہ کے پاس جب بھی کوئی آتا تو وہ کھانا پیش کرتے، بعض اوقات کھانا ختم ہوجاتا تو تازہ پکی ہوئی عمدہ کھجوریں خریدتے اور مہمان کے سامنے پیش کردیتے۔‘‘
(2327)…حضرت سیِّدُنا ابن عون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ ’’حضرت سیِّدُنا امام محمدبن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن جب مقروض ہوجاتے تو کھانے کی مقدار میں کمی کردیتے حتی کہ مجھے ان پر ترس آتا کہ ان کا سالن ایک چھوٹی سی مچھلی ہوتی۔‘‘
(2328)…حضرت سیِّدُنا ابوہلال راسبی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بیان کرتے ہیں کہ ’’ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن نے ہمیں کھانے کے لئے بلایا حالانکہ ان کا سالن ایک چھوٹی سی مچھلی تھی۔ چنانچہ، حضرت سیِّدُنا ابوعطارد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کھانا کھائے بغیر اٹھ کھڑے ہوئے۔‘‘
سب سے زیادہ پر امید:
(2329)…حضرت سیِّدُنا ابن عون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن سے بڑھ کر کسی کو اہل توحید کے لئے امید رکھنے والا نہیں پایا (ان کے اس عمل پر ان آیات سے استدلال
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام احمد بن حنبل، زہد محمد بن سیرین، الحدیث:۱۹۱۰، ص۳۲۹، بتغیرقلیل۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۶۴۴۴، محمد بن سیرین، ج۵۳، ص۲۲۳۔