قسم دی جائے۔‘‘ (۱)
(2321)…حضرت سیِّدُنا ابن عون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ ’’ہم جب بھی حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کے پاس جاتے توآپ ہمیں حلوہ یا فالودہ کھلاتے۔‘‘ (۲)
میزبان ہو تو ایسا:
(2322)…حضرت سیِّدُنا ابوخلدہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں، حضرت سیِّدُنا ابن عون اور حضرت سیِّدُناسہم فرائضی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَاحضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کی خدمت میں حاضر ہوئے توآپ نے فرمایا: ’’مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ تمہیں کیا کھلاؤں؟ کیونکہ تم میں سے ہرایک کے گھر میں روٹی اور گو شت تو ہوتا ہے۔‘‘ چنانچہ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے شہد کا چھتا ہمارے سامنے رکھا، اپنے ہاتھ سے شہد نکال کر ہمیں دیتے رہے اور ہم کھانے میں مصروف رہے۔ (۳)
(2323)…حضرت سیِّدُنا ابوخلدہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا: ’’سمجھ نہیں آرہی کہ تمہیں کیا پیش کروں؟ کیونکہ تم میں سے ہرایک کے گھر میں روٹی اور گو شت تو ہے ہی۔‘‘ چنانچہ، اپنی باندی (خادمہ) سے فرمایا: ’’شہد لے آؤ۔‘‘ وہ شہد کا چھتا لے کر حاضر ہوئی تو آپ نے اپنے ہاتھ سے شہد نکال کر خود بھی کھایا اور ہمیں بھی کھلایا۔ (۴)
(2324)…حضرت سیِّدُنا ابن عون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کے ہاں خوشی کا موقع آیا تو حضرت سیِّدُنا فرقد سَبَخِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی مبارک باد دینے کے لئے آئے۔ اہل خانہ نے گھی، شہد اور روٹی سے بنا ہوا حلوہ کھانے کے لئے پیش کیا لیکن آپ نے کھانے سے انکار کردیا، پھر گھی، شہد اور تازہ روٹی پیش کی گئی تو کھانے لگے، حضرت سیِّدُنا امام محمدبن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن نے فرمایا: ’’آپ نے جس چیز کے کھانے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سیر اعلام النبلاء، الرقم:۶۱۳، محمد بن سیرین، ج۵، ص۴۹۰، بتغیر۔
2…مکارم الاخلاق للطبرانی علی ہامش مکارم الاخلاق لابن ابی الدنیا، باب فضل اطعام الطعام، الحدیث:۱۸۱، ص۳۷۸۔
3…المرجع السابق، الحدیث:۱۸۲۔ 4…المرجع السابق، الحدیث:۱۸۲۔