Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
411 - 603
رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن اپنے ہمراہ چلنے والے ہر شخص کی حاجت پوری کردیتے۔‘‘  (۱)
عالم کی شان:
(2314)…حضرت سیِّدُنا عاصم احول عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل بیان کرتے ہیں: میں حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک شخص نے آکر عرض کی: ’’اے ابوبکر! فلاں مسئلے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’اس کے متعلق مجھے کچھ یاد نہیں۔‘‘ ہم نے عرض کی: ’’اس کے متعلق اپنی رائے کا اظہار فرمادیجئے۔‘‘ فرمایا: ’’میں اپنی رائے سے جواب دوں اور پھر اس سے رجوع کرتا پھروں، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں ایسا نہیں کرسکتا۔‘‘  (۲)
مرد مجاہد:
(2315)…حضرت سیِّدُنا جعفر بن مرزوق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ عمر بن ھُبَیْرَہ نے حضرت سیِّدُنا  امام محمد بن سیرین، حضرت سیِّدُنا حسن بصری اور حضرت سیِّدُنا امام شعبی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو بلوایا۔ جب تینوں حضرات اس کے پاس آئے تو اس نے حضرت سیِّدُنا امام محمدبن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن سے کہا: ’’اے ابوبکر! جب آپ ہمارے دروازے پر پہنچے تو کیا دیکھا؟‘‘ فرمایا: ’’میں نے بے انتہا ظلم و ستم دیکھا۔‘‘ آپ کے بھتیجے نے کندھا دبا کر آپ کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا تو اس کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: ’’سوال مجھ سے کیا جا رہا ہے تجھ سے نہیں۔‘‘ چنانچہ، عمر بن ھُبَیْرَہ نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو چار ہزار درہم، حضرت سیِّدُنا امام محمدبن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کو تین ہزار اور حضرت سیِّدُنا امام شعبی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی کو دو ہزار بھجوائے۔ دونوں حضرات نے تو قبول کرلئے لیکن حضرت سیِّدُنا امام محمدبن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن نے قبول نہ کئے۔  (۳)
(2316)…حضرت سیِّدُنا حازم بن رجاء بن ابی سلمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا یونس بن عبید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری اور حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمَا کے اوصاف 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۶۴۴۴، محمد بن سیرین، ج۵۳، ص۲۰۱۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۶۴۴۴، محمد بن سیرین، ج۵۳، ص۲۰۰، بتغیر۔
3…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۵۰۴، محمد بن سیرین، ج۳، ص۱۶۴۔