پوری کرنے کے بارے میں عرض کی گئی تو فرمایا: ’’میں تو قیدی ہوں۔‘‘ لوگوں نے کہا: ’’ہم نے امیر سے اجازت لے لی ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن نے فرمایا: ’’مجھے امیر نے نہیں بلکہ صاحب حق نے قید کیا ہے۔‘‘ چنانچہ، صاحب حق کے اجازت دینے پر قید خانہ سے باہر آئے اور حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو غسل دیا۔‘‘ (۱)
(2309)…حضرت سیِّدُنا ابن عون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ ’’حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کسی کے ہاں جاکر کھانا تناول نہیں کرتے تھے، جب آپ کو ولیمہ کی دعوت دی جاتی تو قبول فرمالیتے لیکن کھانا تناول نہ فرماتے نیز اپنے مال میں سے کھوٹے درہم نکال دیا کرتے تھے۔‘‘
درہم و دینار کا غلام:
(2310)…حضرت سیِّدُنا ہشام رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کو فرماتے سنا: ’’(آج کا) مسلمان درہم و دینار کا غلام ہے۔‘‘ (۲)
(2311)…حضرت سیِّدُنا ابن عون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن رائج الوقت درہم و دینار کے ساتھ کہ جن پر اسم جلالت کندہ ہوتا تھا خرید و فروخت کرنا نامناسب سمجھتے تھے اور فرماتے: ’’(آج کا) مسلمان درہم کا غلام ہے۔‘‘ (۳)
(2312)…حضرت سیِّدُنا ایوب عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَدُوْد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے پاس حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کا ذکر خیر ہوا تو آپ نے فرمایا: ’’ہم میں سے کون محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کی سی طاقت رکھتا ہے، وہ تو نیزوں کی دھار کی مثل چیز پر بھی سوار ہوجاتے تھے۔‘‘ (۴)
(2313)…حضرت سیِّدُنا عاصم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم بیان کرتے ہیں کہ ’’حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۵۰۴، محمد بن سیرین، ج۳، ص۱۶۲تا۱۶۳۔
2…کنزالعمال،کتاب الاخلاق، الباب الاول فی الاخلاق المحمودۃ، الحدیث:۸۵۹۵، ج۳، ص۲۹۲۔
3…الورع للامام احمد بن حنبل، باب الرجل یعطی الشیء فیتبین انہ یکرہ، ص۱۷۰، باختصارقلیل۔
4…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۶۴۴۴، محمد بن سیرین، ج۵۳، ص۲۰۲۔