ایسی عورت سے نکاح کرو!
(2300)…حضرت سیِّدُنا اصمعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُناابن ابی عطارد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے میری ملاقات ہوئی اس وقت وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا: ’’آپ نے اپنے والد کے واسطے سے حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن سے کیا کچھ یاد کیا ہے؟‘‘ فرمایا: میرے والد نے مجھے بتایا کہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن نے مجھ سے کہا: ’’ایسی عورت سے نکاح کرو جو تمہارے ہاتھ کی طرف دیکھتی ہو نہ کہ تم اس کے ہاتھ کی طرف (یعنی عورت تمہاری محتاج ہو تم عورت کے محتاج نہ ہو)۔‘‘
نیک اولاد ذریعۂ نجات ہے:
(2301)…حضرت سیِّدُنا ابن عون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا: ’’بیٹے! میری طرف سے قرض ادا کر دینا اور میرے وعدے پورے کرنا۔‘‘ بیٹے نے پوچھا: ’’ابا جان! کیا آپ کی طرف سے غلام بھی آزاد کروں؟‘‘ فرمایا: ’’بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ قادر ہے کہ تو جو بھی نیکی و بھلائی کرے گا وہ مجھے اور تجھے اس کا اجر عطا فرمائے گا۔‘‘ (۱)
ان جیسا کوئی متقی و پرہیزگار نہیں:
(2302)…حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہمزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں کہ ’’جو اہل زمانہ میں سب سے زیادہ متقی و پرہیزگار کو دیکھنا چاہے وہ حضرت سیِّدُناامام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کو دیکھ لے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! ہم نے ان سے زیادہ متقی و پرہیزگار کوئی نہیں دیکھا۔‘‘ (۲)
(2303)…حضرت سیِّدُنا عاصم احول عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا مورق عجلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی کو فرماتے سنا کہ ’’میں نے حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کے علاوہ کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جو تقویٰ و پرہیزگاری میں سب سے بڑا فقیہ اور فقہ میں سب سے زیادہ متقی و پرہیزگار ہو۔‘‘ (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام احمد بن حنبل، زہد محمد بن سیرین، الحدیث:۱۷۷۸، ص۳۱۱۔
2…الزہد للامام احمد بن حنبل، زہد محمد بن سیرین، الحدیث:۱۷۸۷، ص۳۱۳۔
3…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۶۴۴۴، محمد بن سیرین، ج۵۳، ص۱۹۵۔