اللّٰہِ الْمُبِیْن ناپسند فرماتے تھے کہ کسی عورت کے لئے طَمَثَت (۱) کا لفظ استعمال کریں بلکہ فرمان باری تعالیٰ کے مطابق حَاضَت کا لفظ استعمال فرماتے تھے۔‘‘ (۲)
تب تو وہ سچے ہیں:
(2297)…حضرت سیِّدُنا عمران بن عبدالعزیز عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیْز بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن سے ایسے لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا جو قرآن سنتے اور غش کھاکر گر جاتے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا: ’’ہمارے اور ان کے درمیان ایک جگہ مقرر کرلو وہ دیوار پر بیٹھ جائیں اور ان کے سامنے اوّل تا آخر قرآن مجید کی تلاوت کی جائے اگر وہ دیوار پر سے گر جائیں توپھرتو اپنے دعویٰ میں سچے ہیں۔‘‘ (۳)
(2298)…حضرت سیِّدُنا محمد بن سلام رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سلم بن قتیبہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کی خدمت میں عمدہ ترکی گھوڑے پر آیا کرتے تھے، پھر پیدل آنے لگے، آپ نے پوچھا: ’’تمہارا ترکی گھوڑا کہاں گیا؟‘‘ کہا: ’’بیچ دیا۔‘‘ پوچھا: ’’کیوں؟‘‘ کہا: ’’اس کا خرچہ زیادہ ہونے کی وجہ سے۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’تمہارا کیا خیال ہے اس کے اخراجات کے بغیر اسے اپنے پاس رکھ سکتے ہو۔‘‘
(2299)…حضرت سیِّدُنا قرہ بن خالد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَاحِد سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے:
اِنَّکَ اِنْ کَلَّفْتَنِیْ مَالَمْ اَطَقْ سَائَکَ مَاسَرَّکَ مِنِّیْ مِنْ خُلْقِ
ترجمہ: بے شک اگر تو نے مجھے اس چیز کا پابند کیا جس کی میں طاقت نہیں رکھتا تو میرا وہ خلق جو تیری خوشی کا باعث ہے تیرے لئے برائی کا سبب بن جائے گا۔ (۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…طمث: کا معنی ہے حیض کا خون، جماع کرنا ، گندگی، میل کچیل۔
2…الکامل فی ضعفاء الرجال، الرقم:۱۴۱۱، عکرمۃ مولٰی ابن عباس، ج۶، ص۴۷۷، بتغیر، عن عکرمۃ۔
3…فضائل القرآن للقاسم بن سلام، باب القاری یصعق عندقراء ۃ القرآن…الخ، الحدیث:۳۰۹، ج۱، ص۳۴۳۔
4…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۶۴۴۴، محمد بن سیرین، ج۵۳، ص۲۲۲۔