(2292)…حضرت سیِّدُنا ایوب عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَدُوْد سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن فرمایا کرتے تھے: ’’اپنے بھائی کا ایسا احترام نہ کرو جو تم پر گراں گزرے۔‘‘ (۱)
(2293)…حضرت سیِّدُنا ابن عون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ عمر بن ھُبَیْرَہ نے حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کی طرف پیغام بھیجا، آپ اس کے پاس گئے تو اس نے پوچھا: ’’آپ نے اپنے شہر کے لوگوں کو کس حال میں چھوڑا؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’اس حال میں کہ ان میں ظلم پھیلا ہوا ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ابن عون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کہتے ہیں: ’’حضرت سیِّدُنا امام ابن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن سمجھتے تھے کہ یہ ایک شہادت (گواہی) ہے جس کے بارے میں ان سے پوچھا گیا ہے، لہٰذا اس کا چھپانا انہوں نے ناپسند جانا۔‘‘ (۲)
(2294)…حضرت سیِّدُنا شبیب بن شیبہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کو فرماتے سنا: ’’کلام اس بات سے وسیع ہے کہ کوئی ظریفُ الطَّبَع شخص اس میں صریح جھوٹ سے کام لے (یعنی ضرورتاً جہاں شریعت اجازت دے وہاں جب توریہ سے کام چل جاتا ہو تو جھوٹ نہیں بولنا چاہئے)۔‘‘ (۳)
وہ تو خود کو عالم سمجھتا ہے:
(2295)…حضرت سیِّدُنا ابن عون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن سے ایک شخص کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا: ’’وہ اہل علم میں سے ہے۔‘‘ اگلے روز میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا توپوچھا: ’’اے ابوبکر! آپ نے ہمارے ساتھی کو کیسا پایا؟‘‘ فرمایا: ’’جیسا تم نے کہا اس سے کوسوں دور ہے اس کا خیال ہے کہ وہ سار ے علم پر حاوی ہے اور جو بات اس نے نہیں سنی اس کے بارے میں یہ نہیں کہتا کہ میں نے یہ بات نہیں سنی۔‘‘
(2296)…حضرت سیِّدُنا ابوجرہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں: حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام احمد بن حنبل، زہد محمد بن سیرین، الحدیث:۱۷۷۲، ص۳۱۱، بتغیرقلیل۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۵۲۹۱، عمر بن ہبیرۃ، ج۴۵، ص۳۷۷تا۳۷۸۔
3…شعب الایمان، باب فی حفظ اللسان، الحدیث:۴۸۹۸، ج۴، ص۲۳۲۔