بارش کرنے کا نام تصوُّف ہے۔
حرمت الٰہی کا پاس:
(2284)…حضرت سیِّدُنا ابن عون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن سے عرض کی گئی: ’’اے ابوبکر! فلاں شخص نے آپ کی غیبت کی ہے تو (مخالفت میں) آپ کا بھی اس کی غیبت کرنا جائز ہے۔‘‘آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’مجھے یہ بات زیبا نہیں کہ میں اسے حلال سمجھوں جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے حرام قرار دیا ہے۔‘‘ (۱)
(2285)…حضرت سیِّدُنا ضمرہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ سری بن یحییٰ یا کسی اور نے حضرت سیِّدُنا امام ابن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن سے کہا: ’’میں نے آپ کی غیبت کی ہے لہٰذا آپ مجھے اپنے لئے حلال سمجھیں (یعنی بدلے میں میری غیبت کرلیں)۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے حرام قرار دیا ہے میں اسے حلال سمجھوں۔‘‘ (۲)
(2286)…حضرت سیِّدُنا عبیداللّٰہ بن محمد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد سے مروی ہے کہ ایک شیخ کا بیان ہے، ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن سے مسئلہ پوچھا گیا آپ نے اس کا بہترین جواب دیا، ایک شخص نے کہا: ’’اے ابوبکر! بخدا! آپ نے بہت اچھا جواب دیا یا بات کی۔‘‘ راوی کا بیان ہے گویا اس نے یوں کہا کہ ’’صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن بھی اس سے اچھا فتویٰ نہ دے سکتے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن نے فرمایا: ’’اگر ہم صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی سمجھ بوجھ کا ارادہ کریں تو ہماری عقلیں اس کے ادراک سے قاصر رہیں۔‘‘
رزق حلال بقدر کفایت حاصل کرو!
(2287)…حضرت سیِّدُنا ہشام رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص تجارت کے ارادے سے سفر پر روانہ ہوتا تو حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن اسے نصیحت کرتے ہوئے فرماتے: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان، باب فی تحریم اعراض الناس…الخ، الحدیث:۶۷۹۰، ج۵، ص۳۱۸۔
2…تاریخ مدینہ دمشق، الرقم:۶۴۴۴، محمد بن سیرین، ج۵۳، ص۲۱۲۔