لازوال نعمتیں:
(2282)…حضرت سیِّدُنا عقبہ بن عبدالغافر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَافِر حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ’’میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی نعمتیں تیار کررکھی ہیں جنہیں نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر اس کا خیال گزرا۔‘‘ (۱)
(2283)…حضرت سیِّدُنا عقبہ بن عبدالغافر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَافِر حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جہنم سے اس شخص کو نکال لیا جائے گا جس نے خلوص دل سے لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ پڑھا ہو اور اس کے دل میں جَو برابر بھی ایمان ہو اور اسے بھی نکال لیا جائے گا جس نے خلوص دل سے لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ پڑھا ہو اور اس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو۔ نیز جس شخص میں بھی بھلائی ہوگی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے جہنم سے نکال لے گا۔‘‘ (۲)
حضرت سیِّدُنا ابوبکر محمد بن سِیْرِیْن
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن
حضرت سیِّدُنا ابوبکر محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ پختہ عقل کے مالک، متقی پرہیزگار، بھائیوں اور ملاقات کے لئے آنے والوں کی خیرخواہی کرنے والے، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی وحدانیت کا اقرار کرنے والوں اور گنہگاروں کی ڈھارس بندھانے والے، بہت محتاط، امانت دار، پاکدامن، نفس کی حفاظت کرنے والے تھے۔ راتوں کو اٹھ کر خوب گریہ و زاری کرتے، دن کے وقت چہرے پر مسکراہٹ سجائے مسجد میں بیٹھے رہتے اور ایک دن چھوڑ کر ایک دن روزہ رکھتے تھے۔
علمائے تصوف فرماتے ہیں: راہِ خدا میں خرچ کرنے، مخلوق کی خیرخواہی کرنے اور لوگوں پر انعام و اکرام کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الصغیرللطبرانی، الجزء الاول، ص۲۶، عن ابی ھریرۃ۔
2…صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب زیادۃ الایمان ونقصانہ، الحدیث:۴۴، ج۱، ص۲۸، بتغیرقلیل، عن انس۔