سیِّدُنا عُقْبَہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی احادیث
حضرت سیِّدُنا عقبہ بن عبدالغافر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَافِر نے حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے احادیث روایت کی ہیں۔ چند مرویات درج ذیل ہیں:
خوف خدا نے عذاب سے بچا لیا:
(2281)…حضرت سیِّدُنا عقبہ بن عبدالغافر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَافِر فرماتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو حدیث بیان کرتے سنا کہ حضور نبی ٔکریم، رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: تم سے پہلے زمانے میں یا پہلی امتوں میں ایک شخص تھا جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے بے شمار مال و دولت اور اولاد کی نعمت سے نوازا۔ حضرت سیِّدُنا ابوعوانہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ اسے بے شمار مال و دولت سے نوازا گیا، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے پوچھا: ’’میں کیسا باپ ہوں؟‘‘ عرض کی: ’’اچھے۔‘‘ اس نے کہا: ’’میں نے تو بارگاہِ الٰہی میں کوئی نیکی نہیں بھیجی۔‘‘ اس روایت کے ایک راوی حضرت سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے اس کی تفسیر یوں کی ہے کہ ’’میں نے بارگاہ الٰہی میں کوئی نیکی جمع نہیں کروائی، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھ پر قادر ہے وہ مجھے عذاب دے گا، جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا، جب کوئلہ ہوجاؤں تو پیس لینا اور جس دن ہواتیز ہو (میری راکھ) اس میں اڑا دینا۔‘‘ جبکہ ایک روایت میں ہے کہ ’’میری راکھ سمندر میں ڈال دینا۔‘‘ حضور نبی ٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اس پر اس شخص نے بیٹوں سے عہد لے لیا۔ چنانچہ، اس کے مرنے کے بعد انہوں نے ایسا ہی کیا۔ انتقال کے بعد اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے (اس کی راکھ سے) کُنْ فرمایا تو وہ انسانی صورت میں کھڑا ہوگیا، ارشاد فرمایا: ’’تجھے ایسا کرنے پر کس نے امادہ کیا؟‘‘ عرض کی: ’’تیرے خوف نے یا کہا: تجھ سے ڈرتے ہوئے میں نے ایسا کیا۔‘‘ پس اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اس پر رحم فرمایا اور یوں اسے چھٹکارا حاصل ہوگیا۔ (۱)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…(پ۲۲، سبا:۳۹، ترجمۂ کنز الایمان: اور جو چیز تم اللّٰہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا) (اس) کا تجربہ دن رات ہورہا ہے کہ کنجوس کا مال حکیم، ڈاکٹر، وکیل یا نالائق اولاد برباد کرتی ہے۔
1…صحیح البخاری، کتاب التوحید، باب قول اللّٰہ تعالٰی یریدون…الخ، الحدیث:۷۵۰۸، ج۴، ص۵۷۵۔