Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
400 - 603
ہے تو وہ عزت دار، پیغام رساں نیک فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور وہ جو (بَد ِقَّت) قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے اس کے لئے دو اجر ہیں۔‘‘  (۱)
اَ لْحَالُّ الْمُرْتَحِل سے مراد:
(2276)…حضرت سیِّدُنا زرارہ بن اوفی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! بارگاہِ الٰہی میں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے ؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’اَ لْحَالُّ الْمُرْتَحِل (یعنی منزل پر پہنچ کر پھر سفر پر روانہ ہو جانا)۔‘‘ صحابی نے عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اَ لْحَالُّ الْمُرْتَحِل سے کیا مراد ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’وہ صاحبِ قرآن (یعنی تلاوت کرنے والا) جوابتدا سے آخر تک پڑھے پھر ابتدا سے شروع کردے۔‘‘  (۲)
دنیاومافیہا سے بہتر:
(2277)…حضرت سیِّدُنا زرارہ بن اوفی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے، ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا روایت کرتی ہیں کہ مصطفیٰ جان رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اسے (اس کے اہل کے لئے) چھوڑ دو۔‘‘  (۳)
	حضرت سیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور انور، شافع محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’فجر کی دو سنتیں دنیاومافیہا سے بہتر ہیں۔‘‘

تُوْبُوْااِلَی اللّٰہ!		اَسْتَغْفِرُاللّٰہ
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…السنن الکبری للنسائی، کتاب فضائل القرآن، باب المتتمتع فی القرآن، الحدیث:۸۰۴۷، ج۵، ص۲۱۔
	سنن الترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء فی فضل قاریء القرآن، الحدیث:۲۹۱۳، ج۴، ص۴۱۴۔
2…المعجم الکبیر، الحدیث:۱۲۷۸۳، ج۱۲، ص۱۳۱۔
3…الجامع الصغیرللسیوطی، الحدیث:۹۵۷۸، ص۵۶۹۔