بعد ایسی قوم ہوگی جو نذر مانے گی اور پوری نہ کرے گی، خیانت کرے گی امانت دار نہ ہوگی، گواہی دے گی حالانکہ گواہ بنائی نہ جائے گی اور ان میں موٹاپا خوب پھیل جائے گا (۱)۔‘‘ (۲)
فرشتوں کا ساتھ اور دو اجر:
(2275)…حضرت سیِّدُنا زرارہ بن اوفی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا روایت کرتی ہیں کہ میرے سرتاج، صاحب معراج صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’وہ شخص جو قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے اور وہ اس میں مہارت رکھتا (یعنی بغیر کسی دشواری و مشقت کے پڑھ لیتا)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یارخان نَعِیْمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد8، صفحہ339 پر (پھر وہ جو ان سے قریب ہوں) کے تحت فرماتے ہیں: ’’یہاں پہلے قرن (زمانہ) سے مراد صحابۂ کرام (رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن) ہیں، دوسرے سے مراد تابعین ، تیسرے سے مراد تبع تابعین ہیں۔ خیال رہے کہ زمانہ صحابہ حضور کی ظہور نبوت سے ایک سوبیس (120) سال تک رہا یعنی قریباً ۱۰۰ھسو ہجری تک اور زمانہ تابعین ۱۰۰ھ سے ۱۷۰ھ ایک سوستر تک اور زمانہ تبع تابعین ۱۷۰ھسے ۲۲۰ھ دوسوبیس تک۔ اس کے بعد مسلمانوں پر بڑے فتنے، تفرقہ بازیاں شروع ہوگئیں۔ معتزلہ، فلاسفہ، جہمیہ وغیرہ فرقے بعد ہی کی پیدا وار ہیں بدعات کا زور بعد ہی میں ہوا۔‘‘(نذر پوری نہ کرے گی) کے تحت فرماتے ہیں: ’’ مانی ہوئی نذریں پوری نہ کریں گے۔ معلوم ہوا کہ نذر پوری کرنا بڑا ضروری ہے رب تعالیٰ فرماتا ہے: یُوۡفُوۡنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوۡنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسْتَطِیۡرًا ﴿۷﴾ (پ۲۹، الدہر:۷، ترجمۂ کنزالایمان: اپنی منتیں پوری کرتے ہیں اور اُس دن سے ڈرتے ہیں جس کی بُرائی پھیلی ہوئی ہے) خیال رہے کہ زیادہ نذریں ماننا اچھا نہیں مگر مانی ہوئی نذر کا پورا کرنا بہت ضروری ہے یہ شرعی نذر کا حکم ہے لغوی نذر جو اولیاء اللہ کے نام کی ہو اس کا پورا کرنا بہتر ہے۔ فرض نہیں، جیسے میلاد شریف یا گیارہویں شریف کی نذریں ماننا۔‘‘ (حالانکہ گواہ بنائی نہ جائے گی) کے تحت فرماتے ہیں: ’’وہ لوگ واردات کے موقعہ پر موجود نہ کئے گئے ہوں گے بلائے نہ گئے ہوں گے مگر قاضی کے ہاں گواہی دیں گے یعنی جھوٹی گواہی جیساکہ آج کل دیکھا جارہا ہے کہ کچہریوں میں لوگ مقدمہ والوں سے پوچھتے پھرتے ہیں کہ کیا تمہیں گواہ چاہئیں تو ہم حاضر ہیں اتنے روپیہ دو جو بتاؤ اس کی گواہی دے دیں لہٰذا یہ فرمان عالی اوس حدیث کے خلاف نہیں کہ اچھے گواہ وہ ہیں جو بغیر بلائے گواہی دیں۔ وہاں سچی گواہی مراد ہے۔‘‘(موٹاپا خوب پھیل جائے گا) کے تحت فرماتے ہیں: ’’وہ لوگ بہت عیش و آرام میں رہیں گے کام کاج کریں گے نہیں۔ جس سے موٹے ہوجائیں گے ۔ انہیں موٹا ہونا بہت پسند ہوگا۔ قدرتی موٹاپے کا یہاں ذکر نہیں یا یہ مطلب ہے کہ جھوٹی شیخی مارا کریں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ بہت مال دار ہونا پسند کریں گے تاکہ موٹے تازے رہیں وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ موٹے عالم کو ناپسند کرتا ہے وہاں بھی موٹاپے سے یہ ہی احتمالات ہیں۔‘‘
2…صحیح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی، باب فضائل اصحاب النبی…الخ، الحدیث:۳۶۵۰، ج۲، ص۵۱۵۔
المعجم الکبیر، الحدیث:۵۲۷، ج۱۸، ص۲۱۳۔