Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
397 - 603
حضرت سیِّدُنا زُرارَہ بن اَوْفٰی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
	حضرت سیِّدُنا زرارہ بن اوفی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ نرم مزاج اور خوف خدا سے اس قدر لرزاں و ترساں رہتے کہ ملائے اعلیٰ سے جاملے۔
	علمائے تصوُّف فرماتے ہیں: دنیا سے رخصت ہونے تک (خوف خدا سے) خوب گریہ و زاری کرنے اور اپنے تمام اعمال پر گواہ بنانے کا نام تصوُّف ہے۔
کاش! موت یوں آئے:
(70-2269)…حضرت سیِّدُنا بہز بن حکیم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ ’’حضرت سیِّدُنا زرارہ بن اوفی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ ہمیں بنوقشیر کی مسجد میں نماز پڑھا رہے تھے، جب اس آیت مبارکہ پر پہنچے: 
فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوۡرِ ۙ﴿۸﴾ (پ۲۹، المدثر:۸)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب صور پھونکا جائے گا۔
	تو غش کھا کر گرے اور انتقال فرماگئے۔ میں انہیں اٹھا کر گھر تک لے جانے والوں میں شامل تھا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اپنے گھر میں بیٹھ کر احادیث بیان کیا کرتے تھے۔ جب حجاج بن یوسف بصرہ آیا تو اس وقت بھی گھر میں بیٹھے احادیث بیان کر رہے تھے۔‘‘  (۱)
سیِّدُنا زُرارَہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی احادیث
	حضرت سیِّدُنا زرارہ بن اوفی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے کئی صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے احادیث روایت کی ہیں۔ چند درج ذیل ہیں:
امت محمدی کی ایک خصوصیت:
(2271)…حضرت سیِّدُنا زرارہ بن اوفی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…سے حدیث پر نہ یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ بعض مومن بخیل بھی ہوتے ہیںاور بدخلق بھی، کیونکہ وہ یا تو مومن کامل نہیں ہوتے یا ان کے یہ عیب عارضی ہوتے ہیں، اور نہ یہ اعتراض رہا کہ یہ حدیث قرآن کے خلاف ہے کہ قرآن کریم نے بعض غصوں کی تعریف فرمائی ہے۔
1…سنن الترمذی، ابواب الصلاۃ، باب اذا نام عن صلاتہ…الخ، الحدیث:۴۴۵، ج۱، ص۴۴۴، باختصار۔
	الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار مطرف بن الشخیر، الحدیث:۱۳۸۳، ص۲۵۸۔