Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
396 - 603
(2267)…حضرت سیِّدُنا ابوعیسیٰ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ زاویہ کے دن بڑی گرمی تھی، حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن غالب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اس دن بھی روزے سے تھے۔ آپ اپنے اصحاب کے درمیان تھے کہ پانی منگوایا اور سر پر انڈیل دیا، پھر تلوار ہاتھ میں لئے ساتھیوں سے فرمایا: ’’آؤ! میرے ساتھ جنت کی طرف چلو۔‘‘  عبدالملک بن مہلب نے آواز دی: ’’اے ابوفراس! آپ تو ایمان والے ہیں۔‘‘ لیکن آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے اس کی طرف توجہ نہ دی بلکہ آگے بڑھتے چلے گئے اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔ جب آپ کو دفن کیا گیا تو قبر مبارک سے مشک کی خوشبو آنے لگی اور لوگ قبر کی مٹی اٹھا کر اپنے کپڑوں پر لگانے لگے۔  (۱)
سیِّدُنا عبداللّہ بن غالب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
سے مروی حدیث
	حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن غالب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے احادیث روایت کی ہیں:
کامل مومن کی علامت:
(2268)…حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن غالب حدانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ مدینے کے سلطان، رحمت عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’مومن میں دو خصلتیں کبھی جمع نہیں ہوتیں کنجوسی اور بدخلقی ۔‘‘  (۲)  (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…تہذیب الکمال، الرقم:۳۴۷۶، عبداللّٰہ بن غالب، ج۱۵، ص۴۲۰ تا۴۲۱۔
2…سنن الترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء فی البخل، الحدیث:۱۹۶۹، ج۳، ص۳۸۷۔
3…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یارخان نَعِیْمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد3، صفحہ75 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی کامل مومن بھی ہو اور ہمیشہ کا بخیل اور بدخلق بھی، اگر اتفاقاً کبھی اس سے بخل یا بدخلقی صادر ہوجائے تو فوراً وہ پشیمان بھی ہوجاتا ہے اس کے ایک معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ مومن نہ بخیل ہوتا ہے نہ بدخلق، جس دل میں ایمان کامل جاگزیں ہو تو اس دل سے یہ دونوں عیب نکل جاتے ہیں (لمعات) خیال رہے کہ بدخلقی اور ہے غصہ کچھ اور، اللّٰہ تعالیٰ کے لئے غصہ کرنا عبادت ہے رب تعالیٰ فرماتا ہے: اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمْ  (پ۲۶، الفتح:۲۹، ترجمۂ کنزالایمان: کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل) ہماری اس شرح…