Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
395 - 603
نعمت الٰہی کا چرچا کرو!
(2264)…حضرت سیِّدُنا نصر بن علی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بیان کرتے ہیں کہ جب صبح ہوتی تو حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن غالب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ یوں کہتے: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے گزشتہ رات بھلائی کی توفیق بخشی میں نے اتنا قرآن پڑھا، اتنی رکعات ادا کیں، اتنا ذکر کیا اور فلاں فلاں نیک عمل سرانجام دیا۔‘‘ عرض کی جاتی: ’’اے ابوفراس! آپ جیسے لوگ اس طرح نہیں کہتے (یعنی اپنے اعمال شمار نہیں کرتے) حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن غالب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ یہ آیت مقدسہ تلاوت کرتے:وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ ﴿٪۱۱﴾   (پ۳۰، الضُّحٰی:۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔
	اور فرماتے: ’’تم کہتے ہو کہ میں اپنے رب کی نعمت کا چرچا نہ کروں۔‘‘  (۱)
اک سجدہ کروں ایسا:
(2265)…حضرت سیِّدُنا سعید بن یزید عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد بیان کرتے ہیں کہ ’’ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن غالب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز تھے، قریب سے ایک شخص چارہ خریدنے کے لئے پل کی جانب گیا اپنی حاجت پوری کرکے واپس لوٹا تو دیکھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ ابھی تک سجدے میں تھے۔‘‘  (۲)
مشکبار قبر:
(2266)…حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں کہ معرکۂ زاویہ (۳) کے دن حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن غالب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’میں ایک ایسا معاملہ دیکھ رہا ہوں جس پر مجھ سے صبر نہیں ہو رہا، آؤ! میرے ساتھ جنت کی طرف چلو۔‘‘ چنانچہ، تلوار لئے آگے بڑھے اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔ حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں کہ ’’ان کی قبرمبارک سے مشک کی خوشبو آتی تھی۔‘‘  (۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…تفسیر القرطبی، پ۳۰، سورۃ الضحٰی، تحت الآیۃ:۱۱، ج۲۰، ص۷۲۔
2…تہذیب الکمال، الرقم:۳۴۷۶، عبداللّٰہ بن غالب، ج۱۵، ص۴۲۰۔
3…زاویہ: بصرہ کے قریب ایک مقام ہے۔ یہاں حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن محمد بن اشعث رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اور حجاج بن یوسف کے مابین ۸۲ ہجری میں جنگ ہوئی تھی۔ (تاریخ الاسلام للذہبی، الجزء السادس، باب احداث سنۃ اثنتین و ثمانین، ص۸، شاملہ)
4…شعب الایمان، باب فی الثبات للعدو…الخ، الحدیث:۴۳۲۳، ج۴، ص۵۶۔