Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
394 - 603
گزرے اور فرمایا: ’’اے عبداللّٰہ! تم نے اپنے اصحاب کو مشقت میں ڈال دیا ہے۔‘‘ آپ نے فرمایا: میں نہ تو خوف خدا میں رونے کی وجہ سے ان کی آنکھیں پھٹی دیکھتا ہوں اور نہ ہی ان کی کمریں جھکی ہوئی ہیں۔ اے حسن! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم کثرت سے اس کا ذکر کریں اور آپ مشورہ دے رہے ہیں کہ تھوڑا ذکر کریں (ہرگز نہیں، فرمان باری تعالیٰ ہے:) کَلَّا ؕ لَا تُطِعْہُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ ﴿٪ٛ۱۹﴾    (پ۳۰، العلق:۱۹)
ترجمۂ کنزالایمان: ہاں ہاں اس کی نہ سنو اور سجدہ کرو اور ہم سے قریب ہوجاؤ(۱)۔
	پھر حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن غالب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے سجدہ کیا۔ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’بخدا! مجھے آج سمجھ نہیں آیا کہ میں سجدہ کرسکوں گا یا نہ نہیں۔‘‘  (۲)
(2263)…حضرت سیِّدُنا جعفر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن غالب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو یوں دعا مانگتے سنا: ’’اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَشْکُوْ اِلَـیْکَ سَفْہَ اَحْلَامِنَا وَنَقْصَ عَمَلِنَا وَاقْتِرَابَ اٰجَالِنَا وَذِہَابَ الصَّالِحِیْنَ مِنَّا یعنی اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہم اپنی کم عقلی، اعمال کی کمی، موت کا وقت قریب آنے اور نیک لوگوں کے رخصت ہونے کی شکایت تجھی سے کرتے ہیں۔‘‘  (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…یہ آیت سجدہ ہے اور آیت سجدہ یا اس کا ترجمہ پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے۔ چنانچہ، دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250صفحات پر مشتمل کتاب بہارِشریعت جلد اول صفحہ728 پرصَدْرُالشَّرِیْعَہ  ، بَدْرُالطَّرِیْقَہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں: ’’آیت سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہوجاتا ہے۔ سجدہ واجب ہونے کے لئے پوری آیت پڑھنا ضروری نہیں بلکہ وہ لفظ جس میں سجدہ کا مادہ پایا جاتاہے اور اس کے ساتھ قبل یا بعد کا کوئی لفظ ملاکر پڑھنا کافی ہے۔‘‘ اور صفحہ730 پر فرماتے ہیں: ’’فارسی یا کسی اور زبان میں آیت کا ترجمہ پڑھا تو پڑھنے والے اور سننے والے پرسجدہ واجب ہوگیا، سننے والے نے یہ سمجھا ہو یا نہیں کہ آیت سجدہ کا ترجمہ ہے، البتہ یہ ضرور ہے کہ اسے نامعلوم ہو تو بتادیا گیا ہو کہ یہ آیت سجدہ کا ترجمہ تھا اور آیت پڑھی گئی ہو تو اس کی ضرورت نہیں کہ سننے والے کو آیت سجدہ ہونا بتایا گیا ہو۔‘‘
	نوٹ: مزید تفصیل کے لئے بہارشریعت کے مذکورہ مقام کاصفحہ 726تا739 کا یا دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 49صفحات پر مشتمل رسالے ’’تلاوت کی فضیلت‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔
2…تہذیب الکمال، الرقم:۳۴۷۶، عبداللّٰہ بن غالب، ج۱۵، ص۴۲۰۔
3…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار مطرف بن الشخیر، الحدیث:۱۳۸۱، ص۲۵۸۔