Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
393 - 603
رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ سات میں سے ساتواں تھا ہمارے پاس درختوں کے پتوں کے سوا کھانے کو کچھ نہ تھا حتی کہ ہماری باچھیں زخمی ہوگئیں۔‘‘  (۱)
حضرت سیِّدُنا عبداللّہ بن غالبرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
	حضرت سیِّدُنا ابوفراس عبداللّٰہ بن غالب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ عبادت گزار، صاف گو، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف سے رونے والے، دیدارِالٰہی کے مشتاق اور آخرت کے سچے طالب تھے۔
	علمائے تصوُّف فرماتے ہیں: دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے اس سے دور بھاگنے اور آخرت میں رغبت رکھتے ہوئے اس کی طلب میں کوشش کرتے رہنے کا نام تصوُّف ہے۔
(2260)…حضرت سیِّدُنامالک بن دینار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار بیان کرتے ہیں کہ ’’حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہبن غالب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے دو گھر تھے۔ ایک عبادت کے لئے اور دوسرا رہائش کے لئے۔ آپ کچھ اوراد دن میں اور کچھ رات میں پڑھتے تھے۔‘‘  (۲)
مقصد ِ تخلیق:
(2261)…حضرت سیِّدُنا عون بن ابی شداد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن غالب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ چاشت کے وقت 100رکعت نفل ادا کرتے اور فرماتے: ’’ہمیں عبادت کے لئے ہی پیدا کیا گیا اور اسی کا حکم دیا گیا ہے۔ قریب ہے کہ مقربین بارگاہِ الٰہی دیگر کاموں سے رک جائیں اور عبادت ہی میں مصروف رہیں۔‘‘  (۳)
(2262)…حضرت سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن غالب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ جامع مسجد میں وعظ کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ان کے پاس سے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1… صحیح مسلم، کتاب الزہد والرقائق، الحدیث:۲۹۶۷، ص۱۵۸۶۔
2…تہذیب الکمال، الرقم:۳۴۷۶، عبداللّٰہ بن غالب، ج۱۵، ص۴۲۱، باختصار۔
3…شعب الایمان، باب فی الصلوات، الحدیث:۳۲۴۲، ج۳، ص۱۶۹۔