جلدی نہ کر شاید نیکی کرلے:
(2257)…حضرت سیِّدُنا ابومسعود جریری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا شویس بن حیاش عدوی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی دو درہم وظیفہ لینے والوں میں سے تھے۔ آپ فرماتے ہیں: ’’دائیں جانب والا فرشتہ بائیں جانب والے فرشتے پر امین یا فرمایا: امیر ہے کہ جب ابن آدم کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے اور بائیں جانب والا فرشتہ اسے لکھنے کا ارادہ کرتا ہے تو دائیں جانب والا فرشتہ کہتا ہے جلدی نہ کر شاید یہ نیکی کرلے۔ جب وہ نیکی کرتا ہے تو فرشتہ ایک کے ساتھ ایک اور نیکی لکھ دیتا ہے حتی کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا بڑھا کر لکھا جاتا ہے۔ پس شیطان کہتا ہے: ہائے افسوس! کون ہے جو ابن آدم کے دگنے ثواب کو پاسکے۔‘‘ (۱)
(2258)…حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں: ’’میں نے بنوعدی کے ایسے مردوں کو دیکھا ہے کہ ان میں سے کوئی اس قدر نماز پڑھتا کہ تھک ہار کر سرین کے بل گھسٹ کر بستر پر پہنچتا۔‘‘ (۲)
سیِّدُنا شُوَیْس بن حَیَّاش رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
سے مروی حدیث
حضرت سیِّدُنا شویس بن حیاش عدوی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی نے حضرت سیِّدُنا عتبہ بن غزوان مازنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے احادیث روایت کی ہیں۔
درس زہد:
(2259)…حضرت سیِّدُنا خالد بن عمیر اور حضرت سیِّدُنا شویس بن حیاش رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمَا بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عتبہ بن غزوان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ’’سنو! بے شک دنیا نے ختم ہونے کا اعلان کر دیا اور پیٹھ پھیر کر جانے والی ہے۔ دنیا سے صرف اتنا باقی رہ گیاہے جتنا کہ برتن کا تلچھٹ۔ تم ایسے گھر میں ہو جہاں سے تمہیں منتقل ہونا ہے، لہٰذا جو کچھ تمہارے سامنے ہے اس میں سے اچھائی لے کر منتقل ہو۔ میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء، ج۴، ص۱۸۲تا۱۸۳، بتغیر۔
2…الزہد لابن مبارک فی نسختہ زائدا، باب فی الذب عن عرض المؤمن، الحدیث:۲۱۷، ص۶۲۔