Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
391 - 603
تھی۔ عورتوں نے آپ کو آتے دیکھا تو کہا دوپٹا اوڑھ لو کوئی آرہا ہے۔ پھر کہا: یہ تو حضرت سیِّدُنا اسود بن کلثوم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ ہیں۔ ایک مرتبہ آپ جہاد کے لئے روانہ ہوئے تو چلتے وقت اس طرح دعا کی: ’’اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میرا نفس راحت و آرام میں یہ گمان کرتا ہے کہ اسے تیری ملاقات عزیز ہے اگر یہ سچا ہے تو اس کی خواہش پوری فرما اگر جھوٹا ہے تو اسے سچا ہونے کی توفیق عطا فرما اگرچہ اسے ناپسند ہو اور میرا گوشت درندوں، پرندوں کی خوراک بنے۔‘‘ چنانچہ، لشکر کے ہمراہ چل دیئے، لشکر ایک باغ کے قریب پہنچا تو دشمنوں نے انہیں ڈرایا دھمکایا لیکن لشکر اسلام آگے بڑھتا رہا حتی کہ ایک سوراخ پاکر باغ میں داخل ہوگیا، حضرت سیِّدُنا اسود بن کلثوم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ گرد آلود چہرہ لئے گھوڑے سے اترے اور زوردار حملہ کرکے واپس لوٹے۔ ایک تالاب کے پاس آئے وضو کیا اور نماز ادا کی، پھر کہا: ’’عجمی کہتے ہیں: جب اہل عرب کسی کو زیر کرنے پر آتے ہیں تو اس طرح زیر کرتے ہیں۔‘‘ پھر آگے بڑھے اور لڑتے لڑتے جام شہادت نوش کر گئے۔ (فتح و نصرت کے بعد) عظیم لشکر کا اس دیوار کے قریب سے گزر ہوا تو آپ کے بھائی سے کہا گیا: ’’باغ میں داخل ہوکر دیکھیں شاید حضرت سیِّدُنا اسود بن کلثوم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کا کچھ گوشت اور ہڈیاں باقی ہوں۔‘‘ بھائی نے کہا: ’’نہیں! میرے بھائی نے بہت سی دعائیں کی تھیں جو قبول ہوئیں میں نہیں چاہتا کہ ان کا اظہار کروں۔‘‘  (۱)
حضرت سیِّدُنا شُوَیْس بن حَیَّاش رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
	حضرت سیِّدُنا ابورقاد شویس بن حیاش رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بنی عدی کے شیوخ میں سے ہیں۔ ہجرت کے سال پیدا ہوئے اور زمانۂ رسالت کے فیوض و برکات سے مستفیض ہوئے اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عطیات وصول کئے۔ 
(2256)…حضرت سیِّدُنا ابوخلدہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے مجھ سے پوچھا: ’’بنوعدی کے شیوخ میں سے کون باقی ہے؟‘‘ میں نے کہا: ’’حضرت سیِّدُنا ابوسوار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار۔‘‘ فرمایا: ’’وہ تو نوجوان ہیں۔‘‘ میں نے کہا: ’’ان کی داڑھی اور سر کے بال سفید ہوچکے ہیں۔‘‘ فرمایا: ’’وہ تو نوجوان ہیں میں نے تم سے شیوخ کے متعلق پوچھا ہے۔‘‘ میں نے کہا: ’’حضرت سیِّدُنا شویس بن حیاش عدوی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی باقی ہیں۔‘‘ فرمایا: ’’ہاں! یہ وہی ہیں جو زمانۂ فاروقی میں دو درہم وصول کیا کرتے تھے۔‘‘
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…الزھد للامام احمد بن حنبل، اخبارعبداللّٰہ بن عمررضی اللّٰہ عنہ،الحدیث:۱۱۵۳، ص۲۲۲۔