Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
390 - 603
آنکھیں اشکبار تھیں (۱)۔‘‘  (۲)
بڑا فتنہ:
(2254)…حضرت سیِّدُنا حمید بن ہلال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَلَال سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ہشام بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضور نبی ٔ رحمت، شفیع امت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سناکہ ’’حضرت آدم عَلَـیْہِ السَّلَام کی تخلیق اور قیامت کے درمیان دجال کا بڑا فتنہ برپا ہوگا۔‘‘  (۳)
حضرت سیِّدُنا اسود بن کُلْثوم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
	حضرت سیِّدُنا اسود بن کلثوم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ وہ خوش نصیب ہیں جو نقاب باندھے ہوئے راہ خدا میں شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ آپ خلوص نیت کے ساتھ (شہادت کی) دعائیں کرتے تھے، پس آپ کی کرامت سبقت لے گئی۔
انوکھی دعا:
(2255)…حضرت سیِّدُنا حمید بن ہلال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَلَال بیان کرتے ہیں کہ ہم میں ایک صاحب تھے جنہیں اسود بن کلثوم کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ اتنے باحیا تھے کہ چلتے وقت نظریں جھکی رہتی تھیں۔ اس زمانہ میں گھروں کی دیواریں چھوٹی ہوتی تھیں۔ ایک بار آپ کسی مکان کے قریب سے گزر رہے تھے، ایک عورت دوپٹا اتارے ہوئے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد8، صفحہ187 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: یہ واقعہ غزوۂ موتہ میں ہوا جو ۸آٹھ ہجری میں ہوا اس غزوہ میں مسلمان تین ہزار تھے اور ہرقل کی رومی فوج ایک لاکھ تھی۔ حضور انور نے لشکر اسلام روانہ فرماتے وقت سپہ سالار مقرر فرما دیئے تھے کہ اوّلا زید ابن حارثہ سپہ سالار ہوں گے پھر جعفر ابن طالب طیار پھر ان کی شہادت کے بعد عبداللّٰہ ابن رواحہ ہوں گے۔ موتہ میں یہ حضرات یکے بعد دیگرے شہید ہورہے تھے اور یکے بعد دیگرے جھنڈا لے رہے تھے اور یہاںحضور مسجد نبوی شریف میں ان تمام واقعات کی خبر دے رہے تھے۔ یہ ہے حضور انور کا علم غیب بلکہ حاضر و ناظر ہونا، آج دوربین کے ذریعہ انسان دور کی چیز دیکھ لیتا ہے تو نبوت کی دوربین کا کیا کہنا اس زمانہ میں جھنڈا لشکر کے سردار کے ہاتھ میں ہوتا تھا حضور انور کا یہ فرمان کہ جھنڈا فلاں نے لے لیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ امیرلشکر بن گئے۔
2…صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ مؤتۃ من ارض الشام، الحدیث:۴۲۶۲، ج۳، ص۹۶۔
3…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث ھشام بن عامر، الحدیث:۱۶۲۶۵، ج۵، ص۴۸۸۔