حضرت سیِّدُنا حُمَیْد بن ہِلال عَدَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی
حضرت سیِّدُنا حمید بن ہلال عدوی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ علم فقہ سیکھ کر لوگوں سے کنارہ کش ہوگئے، علم دین حاصل کرکے عمل میں مشغول ہوگئے، علمی میدان میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نمایاں اور میدان تحقیق میں اچھی سمت کے مالک تھے۔
(2243)…حضرت سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ ’’حضرت سیِّدُنا حمید بن ہلال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَلَال کا شمار فقہا علمائے کرام میں ہوتا ہے، آپ نہ تو کسی سے تکرار کرتے اور نہ ہی ان سے سوال کیا جاتاکیونکہ آپ لوگوں سے کنارہ کش رہتے تھے۔‘‘ (۱)
سب سے بڑے عالم:
(2244)…حضرت سیِّدُنا موسیٰ بن اسماعیل عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَکِیْل سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرمایا کرتے: ’’اہل مصر میں حضرت سیِّدُنا حمید بن ہلال عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَلَال سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں ہے۔‘‘ یہاں تک کہ وہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری اور حضرت سیِّدُنا امام محمدبن سرین رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمَا کا بھی استثناء نہیں کرتے تھے (یعنی ان سے بھی بڑا عالم کہتے تھے)۔ (۲)
بازار میں ذکراللّٰہ کرنے والے کی مثال:
(2245)…حضرت سیِّدُنا ابوہلال خالد بن ایوب عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَدُوْد سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حمید بن ہلال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَلَال نے فرمایا: ’’بازار میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرنے والے کی مثال سوکھے درختوں میں سرسبز و شاداب درخت کی مانند ہے۔‘‘
ہمیشہ باقی رہنے والی خوشی:
(2246)…حضرت سیِّدُنا سلیمان بن مغیرہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حمید بن ہلال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَلَال نے ہمیں بتایا کہ جب کوئی شخص جنت میں داخل ہوگا تو اسے جنتیوں کی صورت میں ڈھالا جائے گا، جنتی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۵۱۴، حمید بن ہلال العدوی، ج۳، ص۱۷۵۔
2…المرجع السابق۔