Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
385 - 603
(2238)…حضرت سیِّدُنا ابوخلدہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنوعدی کی مسجد میں حضرت سیِّدُنا ابوسوار عدوی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی نے حضرت سیِّدَتُنا معاذہ عدویہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہَا سے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی عورت مسجد میں آکر(۱) اپنا سر نیچے کر لیتی اور سرین اوپر اٹھا لیتی ہے۔‘‘ عرض کی: ’’آپ کیوں دیکھتے ہیں؟ اپنی آنکھوں کو مٹی پر جمائے رکھیں ہمیں نہ دیکھا کریں۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’بخدا! میں پوری کوشش کرتا ہوں کہ نہ دیکھوں مگر پھر بھی نگاہ پڑجاتی ہے۔‘‘ حضرت سیِّدَتُنا معاذہ عدویہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہَا نے معذرت چاہی اور عرض کی: ’’اے ابوسوار! جب میں گھر میں ہوتی ہوں تو بچے مجھے مصروف رکھتے ہیں اور جب مسجد میں ہوتی ہوں تو نشاط محسوس کرتی ہوں۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ابوسوار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار نے فرمایا: ’’اسی نشاط کا مجھے تم پر خوف ہے۔‘‘  (۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…اب تو عورتوں کی عریانیت اور ان کی آزادی بہت بڑھ چکی ہے۔ حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اپنے زمانہ کی عورتوں کا بھی مسجد میں آنا پسند نہیں فرمایا جیساکہ بخاری اور مسلم میں ان کا ارشاد مروی ہے: لَوْاَ دْرَ کَ رَسُوْلُ اللّٰہِصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم مَااَحْدَثَ النِّسَائُ لَمَنَعَہُنَّ الْمَسْجِد (صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب انتظار الناس قیام الامام العالم، الحدیث:۸۶۹، ج۱، ص۳۰۰) یعنی جو باتیں عورتوں نے اب پیدا کی ہیں اگر رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم ان باتوں کو ملاحظہ فرماتے تو مسجد میں آنے سے انہیں ضرور منع فرمادیتے یہاں تک کہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عورتوں کا حال دیکھ کر انہیں مسجد میں آنے سے منع فرمادیا حالانکہ اِس زمانہ میں اگر ایک عورت نیک ہے تو ان کے زمانۂ مبارکہ میں ہزاروں عورتیں نیک تھیں اور ان کے زمانہ میں اگر ایک عورت فاسقہ تھی تو اب ہزاروں عورتیں فاسقہ ہیں اور حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے تھے کہ عورت سراپا شرم کی چیز ہے۔ سب سے زیادہ خدائے تعالیٰ کے قریب اپنے گھر کی تہ میں ہوتی ہے اور جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس پر نگاہ ڈالتا ہے اور حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا جمعہ کے دن کھڑے ہو کر کنکریاں مار مار کر عورتوں کو مسجد سے باہر نکالتے اور حضرت امام ابراہیم نخعی تابعی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی مستورات کو جمعہ اور جماعت میں نہیں جانے دیتے تھے اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  اور دیگر متقدمین نے اگرچہ بوڑھی عورتوں کو فجر، مغرب اور عشاء کی جماعتوں میں شرکت کو جائز ٹھہرایا تھا لیکن متاخرین نے بوڑھی ہو یا جوان ہر عمر کی عورتوں کو سب نمازوں کی جماعت میں دن کی ہو یا رات کی شرکت سے منع فرمادیا اور ممانعت کی وجہ فتنہ کا خوف ہے جو حرام کا سبب ہے اور جو چیز حرام کا سبب ہوتی ہے وہ بھی حرام ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب فساد زمانہ کے سبب اب سے سیکڑوں برس پہلے مسجدوں میں حاضر ہونے اور جماعتوں میں شرکت کرنے سے عورتیں روک دی گئیں حالانکہ ان دونوں باتوں کی شریعت میں بہت سخت تاکید ہے تو اس زمانہ میں جب کہ فتنہ و فساد بہت بڑھ چکا ہے بھلا عورتوں کا بے پردگی کے ساتھ سڑکوں، پارکوں اور بازاروں میں گھومنا پھرنا اور نامحرموں کو اپنا بناؤسنگار دکھانا کیونکر جائز و درست ہوسکتا ہے۔ (ماخوذ ازفتاویٰ فیض الرسول، ج۲، ص۶۳۵تا۶۳۶)
2…الزہد للامام احمد بن حنبل، زہد محمد بن سیرین، الحدیث:۱۸۵۳، ص۳۲۱۔