مغرور و متکبر شخص اور مرد قلندر:
(2235)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ ایک مغرور و متکبر شخص نے حضرت سیِّدُنا ابوسوار عدوی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی کو بلا کر اپنے کسی دینی معاملے کے بارے میں سوال کیا، آپ نے اپنے علم کے مطابق اسے جواب دیا اور کہا: ’’اگر تم ایسا کرو تو ٹھیک ہے ورنہ تم دین اسلام سے بری ہو۔‘‘ اس پر اس شخص نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو پے درپے 40کوڑے لگوائے۔ حضرت سیِّدُنا ابوجعفر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت سیِّدُناامام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل کو کوڑے مارے گئے اور قید کیا گیا تو مجھ پر مصیبت و غم کی کیفیت طاری ہوگئی۔ ایک رات کسی نے خواب میں مجھ سے کہا: ’’کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ بارگاہ الٰہی میں احمد بن حنبل کا مرتبہ ابوسوار عدوی کے برابر ہو۔‘‘ چنانچہ، میں نے حضرت سیِّدُنا ابوعبداللّٰہ امام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل کی خدمت میں حاضر ہو کر جب اس بات کی اطلاع دی تو انہوں نے: اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ) ۱)پڑھا۔ (۲)
(2236)…حضرت سیِّدُنا مخلد بن حسین رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص حضرت سیِّدُنا ابوسوار عدوی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی کو برا بھلا کہہ رہاتھا مگر آپ خاموش تھے، جب گھر کے قریب پہنچے یا گھر میں داخل ہونے لگے تو فرمایا: ’’بس اتنا ہی یا اور بھی کچھ کہنا ہے۔‘‘ (۳)
کاش! دسواں حصہ ہی درست ہو جائے:
(2237)…حضرت سیِّدُنا سالم بن نوح رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن حضرت سیِّدُنا عوف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کہیں جا رہے تھے، حضرت سیِّدُنا یونس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے ان کا حال دریافت کیا۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ حضرت سیِّدُنا ابوسوار عدوی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے ایک بار پوچھا گیا: ’’کیا آپ کا ہر حال اچھا ہے؟‘‘ تو انہوں نے فرمایا: ’’کاش! دسواں حصہ ہی درست ہوجائے۔‘‘ (۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…یعنی: ہم اللّٰہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا۔
2…سیر اعلام النبلاء، الرقم:۱۸۷۶، احمد بن حنبل، ج۹، ص۵۴۳، باختصار۔
3…الزہد للامام احمد بن حنبل، زہد محمد بن سیرین، الحدیث:۱۸۴۵، ص۳۲۰۔
4…الزہد للامام احمد بن حنبل، زہد محمد بن سیرین، الحدیث:۱۸۴۳، ص۳۲۰۔