ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’تو محض رضائے الٰہی کے لئے اپنے نفس اور خواہشات سے جہاد کرے۔‘‘ (۱)
(2233)…حضرت سیِّدُنا علاء بن زیاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا: ’’کون سا مجاہد افضل ہے؟‘‘ فرمایا: ’’جو محض رضائے الٰہی کے لئے اپنے نفس سے جہاد کرے۔‘‘ اس نے عرض کی: ’’یہ آپ کہہ رہے ہیں یا پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان ہے؟‘‘ فرمایا: ’’یہ مصطفیٰ جان رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان ہے۔‘‘ (۲)
حضرت سیِّدُنا ابوسَوَّارعَدَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی
حضرت سیِّدُنا ابوسوار عدوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ خوش دلی سے ملاقات کرنے والے، نرم طبیعت کے مالک، اچھے تعلقات و ملاپ پر فخر کرنے والے اور نفس کو (عبادت کی) مشقت میں ڈالنے والے تھے۔
علمائے تصوُّف فرماتے ہیں: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے بے حد محبت کرنے اور اس کی محبت میں بے چین رہنے کا نام تصوُّف ہے۔
(2234)…حضرت سیِّدُنا ابوتیاح رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابوسوار عدوی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی نے یہ آیت مبارکہ تلاوت کی: وَکُلَّ اِنۡسَانٍ اَلْزَمْنٰہُ طٰٓئِرَہٗ فِیۡ عُنُقِہٖ ؕ (پ۱۵، بنی اسرائیل:۱۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ہر انسان کی قسمت ہم نے اس کے گلے سے لگا دی ہے۔
پھر فرمایا: ’’دونوں نوشتے لپیٹے ہوئے ہیں۔ اے ابن آدم! جب تک تو زندہ ہے تیرا صحیفہ کھلا ہوا ہے تو اس میں جو چاہے سوچ و بچار (یعنی عمل) کر جب تو فوت ہوگا تو اسے لپیٹ دیا جائے گا پھر جب تجھے دوبارہ اٹھایا جائے گا تو اسے کھول دیا جائے گا اور فرمایا جائے گا کہ اپنا نامہ پڑھ، آج تو خود ہی اپنا حساب کرنے کو بہت ہے۔‘‘ (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جمع الجوامع، حرف الھمزہ، الحدیث:۳۶۵۶، ج۲، ص۱۳۔
2…تعظیم قدر الصلاۃ للمروزی، الحدیث:۶۳۹، ج۲، ص۶۰۰۔
3…الزہد للامام احمد بن حنبل، زہد محمد بن سیرین، الحدیث:۱۸۴۱، ص۳۲۰۔