Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
382 - 603
 ہوئے۔‘‘جب یہ بات پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک پہنچی تو ارشاد فرمایا: ’’یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگاتے، منتر جنتر نہیں کرتے، فال کے لئے چڑیاں نہیں اڑاتے  اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ پر بھروسا کرتے ہیں۔‘‘  (۱)
سونے، چاندی کی اینٹ:
(2230)…حضرت سیِّدُنا علاء بن زیاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ سرکار مکہ مکرمہ، سردار مدینہ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جنت کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی ہے۔‘‘حضرت سیِّدُناقتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی روایت میں اتنا زائد ہے کہ ’’جنت کی مٹی زعفران اور گارا مشک کا ہے (۲)۔‘‘  (۳)
(2231)…حضرت سیِّدُنا علاء بن زیاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد سے مروی ہے کہ مکی مدنی سلطان، رحمت عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جنت کی ایک اینٹ سونے اور ایک چاندی کی ہے۔ مٹی زعفران اور گارا مشک کا ہے۔‘‘ جبکہ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ایک روایت میں اتنا زائد ہے کہ ’’جنت کے درجات یاقوت اور موتیوں کے ہیں، نہروں کے کنارے موتیوں کے اور مٹی زعفران ہے۔‘‘  (۴)
افضل جہاد:
(2232)…حضرت سیِّدُنا علاء بن زیاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کون سا جہاد افضل 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۹۷۶۵-۹۷۶۶، ج۱۰، ص۵۔
2…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد7، صفحہ492 پر فرماتے ہیں: دیکھو یہ ہے اس غیب داں صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا علم کہ جنت کی ساری حقیقت بیان فرمادی جس کی نگاہ سے جنت کی حقیقت نہیں چھپی انہیں سب کی حقیقت معلوم ہے۔
3…المعجم الاوسط، الحدیث:۲۵۳۲، ج۲، ص۶۵۔
4…المعجم الاوسط، الحدیث:۳۷۰۱، ج۳، ص۷، عن ابی سعیدالخدری۔
	کتاب الجامع لمعمر بن راشد مع المصنف لعبد الرزاق، باب الجنۃ وصفتھا، الحدیث:۲۱۰۳۹، ج۱۰، ص۳۴۔