Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
381 - 603
’’اپنی دائیں طرف دیکھئے!‘‘ دیکھا تومکہ کے میدانوں کی طرح ایک میدان تھا جو لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ’’اے محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ راضی ہیں؟‘‘ میں نے عرض کی: ’’اے رب عَزَّوَجَلَّ! میں راضی ہوں۔‘‘ پھر ارشاد ہوا: ’’اپنی بائیں جانب دیکھئے!‘‘ دیکھا تو لوگوں سے آسمان بھرا ہوا تھا۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ’’اے محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ راضی ہیں؟‘‘ میں نے عرض کی: ’’اے رب عَزَّوَجَلَّ! میں راضی ہوں۔‘‘ ارشادفرمایا: ’’ان کے ساتھ 70ہزار لوگ بلاحساب و کتاب جنت میں جائیں گے۔‘‘
	حضرتِ سیِّدُنا عُکاشہ بن محصن اسدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کھڑے ہوکر عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں شامل فرمادے۔‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دعا فرمائی: ’’اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! اسے اس گروہ میں شامل فرما!‘‘ پھر ایک اور شخص عرض گزار ہوا: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! دعا فرمائیے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے بھی ان میں شامل فرما دے۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’اس دعا میں عُکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔‘‘ پھر صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن پر کمال شفقت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں! اگر تم ان 70ہزار میں شامل ہونے کی استطاعت رکھو تو ضرور کوشش کرنا اور اگر عاجز آجاؤ یا کوتاہی برتو تو پھر ٹیلے والوں میں شامل ہونے کی کوشش کرنا، اگر اس سے بھی عاجز آؤ اور کوتاہی کا ارتکاب کرو تو اُفق والوں میں سے ہونے کی کوشش کرنا بے شک میں نے بہت سے لوگوں کو ایک دوسرے میں گھسے دیکھا۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا: ’’مجھے امید ہے کہ ایک چوتھائی اہل جنت میرے متبعین ہوں گے۔‘‘ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے اس پر نعرۂ تکبیر بلند کیا۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’مجھے امید ہے کہ اہل جنت کا نصف حصہ تم ہوگے۔‘‘ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے پھر نعرۂ تکبیر بلند کیا۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ آیت مقدسہ تلاوت کی: ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیۡنَ﴿ۙ۳۹﴾ وَ ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیۡنَ﴿ؕ۴۰﴾   (پ۲۷، الواقعۃ:۳۹،۴۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اگلوں میں سے ایک گروہ اور پچھلوں میں سے ایک گروہ۔
	پھر صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَــیْہِمْ اَجْمَعِیْن 70ہزار کے بارے میں آپس میں تذکر ہ کرنے لگے کہ وہ خوش نصیب لوگ کون ہیں؟ بعض نے کہا: ’’یہ وہ خوش نصیب ہیں جو مسلمانوں کے ہاں پیدا ہوئے اور مسلمان ہی دنیا سے رخصت