Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
380 - 603
بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا بھیڑیا ہوتا ہے کہ وہ الگ، دور اور کنارے والی بکری کو پکڑتا ہے (۱)، لہٰذا تم گھاٹیوں سے بچو جماعت مسلمین اور عوام کو لازم پکڑو۔‘‘  (۲)
افضل دعا:
(2228)…حضرت سیِّدُنا علاء بن زیاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔکریم، رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو اس سے زیادہ پسند کوئی دعا نہیں کہ بندہ یوں دعا مانگے: اَسْاَلُ اللّٰہَ الْعَفْوَ وَالْمُعَافَاۃَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃ یعنی میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے دنیا و آخرت میں بخشش اور امن و چین مانگتا ہوں (۳)۔‘‘  (۴)
خدا چاہتاہے رضائے محمد:
(2229)…حضرت سیِّدُنا علاء بن زیاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عمران بن حصین اور حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: ایک رات ہم بارگاہ رسالت میں بیٹھے کافی دیر تک گفتگو کرتے رہے (پھر اپنے اپنے گھر لوٹ گئے) صبح جب بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے تو حضور نبی ٔ رحمت، شفیع امت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: مجھ پر تما م انبیا مع اپنے متبعین کے پیش کئے گئے، کسی نبی کے ساتھ تین امتی تھے اور کسی کے ساتھ کوئی بھی نہیں، یقینا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہیں قوم لوط کے بارے میں خبر دی ہے کہ حضرت لوط عَلَـیْہِ السَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا: ’’کیا تم میں عقل مند کوئی نہیں؟‘‘ حتی کہ حضرت موسیٰ بن عمران عَلَـیْہِ السَّلَام اور بنی اسرائیل میں سے ان کے پیروکاروں کا گزر ہوا، میں نے عرض کی: ’’اے رب عَزَّوَجَلَّ! میری امت کہاں ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد1، صفحہ177 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: دنیا ایک جنگل ہے جس میں ہم لوگ مثل بکریوں کے ہیں شیطان بھیڑیا ہے جو ہر وقت ہماری تاک میں ہے جو جماعت مسلمین سے الگ رہا شیطان کے شکار میں آ گیا۔
2…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث معاذ بن جبل، الحدیث:۲۲۱۶۹، ج۸، ص۲۵۸۔
3…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد4، صفحہ74 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: دین و بدن میں امن اور مخلوق کی شر سے چین کہ کوئی جن و انس ہمیں بے چین نہ کرسکے۔ نہ دنیا میں نہ آخرت میں۔
4…المعجم الکبیر، الحدیث:۳۴۶، ج۲۰، ص۱۶۵۔