حضرت سیِّدُنا ہشام بن زیاد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد فرماتے ہیں کہ میں باہر نکلا تو اس نے مجھ سے پوچھا: ’’آپ علاء بن زیاد ہیں؟‘‘ میں نے کہا: ’’نہیں۔‘‘ میں نے اس سے کہا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تم پر رحم فرمائے! سواری سے اترو اور اپنا سامان بھی رکھ دو۔‘‘ اس نے کہا: ’’نہیں! پہلے علاء بن زیاد کے بارے میں بتاؤ وہ کہاں ہیں؟‘‘ میں نے کہا: ’’وہ مسجد میں ہیں۔‘‘ حضرت سیِّدُنا علاء بن زیاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد مسجد میں بیٹھ کر کثرت سے دعائیں مانگتے اور احادیث بیان کرتے تھے۔ جب میںنے انہیں مسافر کے آنے کی خبر دی تو آپ نے حدیث کو مختصر کیا، دو رکعت نماز ادا کی اور مسکراتے ہوئے اس کے پاس تشریف لائے تو سامنے کے ٹوٹے ہوئے دانت ظاہر ہوگئے، اس نے نشانی دیکھ کر کہا: ’’بخدا! یہی میرا مطلوب ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ہشام رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کہتے ہیں: حضرت سیِّدُنا علاء بن زیادہ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد نے مجھ سے فرمایا: ’’تم نے اس کی سواری کو بٹھاکر اس کا سامان کیوں نہیں اتارا؟‘‘ عرض کی: ’’میں نے اس سے بیٹھنے اور سامان اتارنے کے لئے کہا تھا لیکن اس نے انکار کردیا۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے اس سے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تم پر رحم فرمائے! سواری سے اتر آؤ۔‘‘اس نے کہا: ’’مجھے تنہائی میں آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔‘‘ چنانچہ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ گھر گئے اور اپنی زوجہ محترمہ سے فرمایا: ’’اے اسمائ! دوسرے کمرے میں چلی جاؤ۔‘‘ ان کے جانے کے بعد وہ شخص کمرے میں داخل ہوا اور انہیں اپنا خواب سنایا اور جنت کی خوشخبری دی، پھر نکل کر سوارہوا اور رخصت ہوگیا۔ اس کے جانے کے بعد حضرت سیِّدُنا علاء بن زیاد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد اٹھے، دروازہ بند کیا اور تین دن یا سات دن تک روتے رہے، نہ تو کھانا کھایا، نہ پانی پیا اور نہ ہی دروازہ کھولا۔
حضرت سیِّدُنا ہشام رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں: آپ روتے ہوئے کہتے: ’’کیا میں! کیا میں! (اس لائق ہوں!)‘‘ ہم ڈر گئے کہ کہیں انتقال نہ فرما جائیں۔ چنانچہ، میں حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ کہہ سنایا اور عرض کی: ’’میرا خیال ہے وہ انتقال فرماجائیں گے کہ نہ تو کچھ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں مسلسل روئے چلے جارہے ہیں۔‘‘ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی تشریف لائے، دروازہ کھٹکھٹاکر کہا: ’’اے بھائی! دروازہ کھولو۔‘‘ جب انہوں نے ان کی آواز سنی تو دروازہ کھول دیا، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ کس قدر سخت تکلیف میں تھے۔ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے کہا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے! اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے چاہا تو آپ ضرور اہل جنت سے ہوں گے۔ کیا آپ اپنے آپ کو قتل کر دیں گے؟‘‘ حضرت سیِّدُنا