Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
377 - 603
چاہے تو نکال سکتا ہے۔‘‘  (۱)
یہ خیر کی نشانی ہے:
(2223)…حضرت سیِّدُنا جریر بن عبید عدوی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے مروی ہے کہ میرے والد ماجد نے حضرت سیِّدُنا علاء بن زیاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد سے عرض کی: ’’جب میں تنہا نماز پڑھتا ہوں تو مجھے اپنی نماز کی سمجھ نہیں آتی۔‘‘ انہوں نے فرمایا: ’’خوشخبری ہو بے شک یہ خیر کی نشانی ہے، کیا تم نے چوروں کو نہیں دیکھا جب وہ کسی ویران مکان کے پاس سے گزرتے ہیں تو اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے لیکن جب کسی ایسے گھر کے قریب سے گزرتے ہیں جو آباد اور مال و متاع سے بھرا ہو تو تلاش و جستجو میں لگ جاتے ہیں حتی کہ اس میں سے کوئی نہ کوئی چیز لے اڑتے ہیں۔‘‘  (۲)
جنت کی خوشخبری:
(2224)…حضرت سیِّدُنا جعفر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار نے حضرت سیِّدُنا ہشام بن زیاد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد سے ایک واقعے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا: اہل شام میں سے ایک شخص حج کے ارادے سے سامان سفر تیار کئے ہوئے تھا۔ ایک رات اس نے خواب میں کسی کو کہتے سنا کہ ’’عراق سے ہوتے ہوئے بصرہ جاؤ اور قبیلہ بنوعدی سے تعلق رکھنے والے حضرت سیِّدُنا علاء بن زیاد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد سے ملاقات کرو (ان کی نشانی یہ ہے کہ) ان کا قدد رمیانہ اور سامنے کے دو دانٹ ٹوٹے ہوئے ہیں، ہونٹوں پر مسکراہٹ رہتی ہے، انہیں جنت کی خوشخبری سنانا۔‘‘ اس نے خواب کو اہمیت نہ دی حتی کہ دوسری اور تیسری رات پھر وہی خواب دیکھا کہ کوئی کہہ رہا ہے: ’’عراق کیوں نہیں جاتے؟‘‘ پھر پہلی رات والی بات دہرائی۔ چنانچہ، صبح ہوتے ہی اس نے عراق کی طرف رخت سفر باندھا، جب اپنی بستی سے نکلا تو خواب میں آنے والے شخص کو اپنے آگے چلتے دیکھا، جب یہ سواری سے اترتا تو چلنے والا غائب ہوجاتا۔ چنانچہ، کوفہ میں داخل ہونے تک نظر آتا رہا پھر غائب ہوگیا، جب کوفہ سے روانہ ہوا تو اسے پھر اپنے آگے چلتے دیکھا حتی کہ بصرہ میں قبیلہ بنوعدی پہنچ گئے اور وہ دکھائی دینے والا شخص علاء بن زیاد کے گھر میں داخل ہوگیا۔ مسافر نے کچھ دیر دروازے پر کھڑے رہنے کے بعد سلام کیا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…الزھد للامام احمد بن حنبل، حدیث العلاء بن زیاد، الحدیث:۱۴۳۱، ص۲۶۵۔
2…الزھد للامام احمد بن حنبل، حدیث العلاء بن زیاد، الحدیث:۱۴۳۳، ص۲۶۶۔