کی پیشانی پکڑ کر کہا: ’’اے ابن زیاد! اٹھو! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرو وہ تمہارا چرچا کرے گا۔‘‘ آپ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور پیشانی کے وہ بال جس سے اٹھانے والے نے پکڑا تھا مرتے دم تک باقی رکھے۔ (۱)
(2219)…حضرت سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا علاء بن زیاد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد فرمایا کرتے تھے: ’’تم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ اپنے نفس کو یہ باور کروائے کہ اس پر موت طاری ہوچکی ہے اور اس سے ہونے والی لغزش پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے معافی چاہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ خطائیں معاف فرمادے گا، پھر اطاعت الٰہی میں زندگی بسر کرے۔‘‘ (۲)
گناہوں کا دلدل:
(2220)…حضرت سیِّدُنا ہشام بن حسان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا علاء بن زیاد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد کے پیچھے پیچھے کیچڑ سے بچ کر چل رہاتھا کہ کسی نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو دھکا دیا تو آپ کا پاؤں کیچڑ میں جاپڑا اور پھنستا چلا گیا، جب گھر کے دروازے پر پہنچے تو ٹھہر گئے اور فرمایا: ’’اے ہشام! دیکھا؟‘‘ میں نے عرض کی: ’’جی ہاں!‘‘ فرمایا: ’’اسی طرح مسلمان گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا رہتا ہے لیکن جب پڑتا ہے تو گناہوں کے دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔‘‘ (۳)
(2221)…حضرت سیِّدُنا مخلد بن حسین رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا علاء بن زیاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد سے کسی نے کہا: ’’میں نے خواب میں آپ کو جنت میں دیکھاہے۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’تو ہلاک ہو! کیا شیطان کو تمسخر کے لئے میرے اور تیرے علاوہ کوئی اور نہیں ملا۔‘‘ (۴)
(2222)…حضرت سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا علاء بن زیاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد نے فرمایا: ’’ہم ایسے لوگ ہیں جنہوں نے خود کو آگ میں ڈال رکھا ہے اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اس سے نکالنا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزھد للامام احمد بن حنبل، حدیث العلاء بن زیاد، الحدیث:۱۴۲۷، ص۲۶۵۔
2…الزھد للامام احمد بن حنبل، حدیث العلاء بن زیاد، الحدیث:۱۴۳۰، ص۲۶۵۔
3…تہذیب الکمال، الرقم:۴۵۶۸، العلاء بن زیاد بن مطر العدوی، ج۲۲، ص۵۰۱شاملہ۔
4…الزھد للامام احمد بن حنبل، حدیث العلاء بن زیاد، الحدیث:۱۴۲۵، ص۲۶۵۔