سمیٹ لیتا، تلاوت کرتا تو بلند آواز سے کرتا اور جس سے بھی ملتا لعن طعن کرتا۔ (پھر اسے توبہ کی توفیق ملی تو) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے اخلاص و یقین کی دولت سے مالامال کردیا اس کے بعد وہ تلاوت کے دوران آواز دھیمی کرلیتا، رضائے الٰہی کے لئے نماز پڑھتا اور جس سے بھی ملتا اس کے لئے دعائے خیر کرتا اور اچھے کلمات سے یاد کرتا۔‘‘ (۱)
رحمت الٰہی کے امیدوار:
(2213)…حضرت سیِّدُنا اوفی بن دلہم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا علاء بن زیاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد کے پاس کافی مال و دولت اور غلام تھے۔ آپ نے کچھ غلام آزاد کر دیئے، کچھ رشتہ داروں کو دیئے، کچھ بیچے اور ایک یا دو اپنے لئے رکھ لئے جن کی کمائی سے گزارہ چلاتے۔ خود عبادت میں مصروف رہتے، روزانہ صرف دو روٹیاں تناول فرماتے، لوگوں سے الگ تھلگ رہتے، باجماعت نماز، جمعہ، نمازِجنازہ اور مریض کی عیادت کے لئے جاتے تو فراغت کے بعد فوراً گھر لوٹ جاتے، مجاہدات کے باعث جب کافی کمزور ہوگئے تو خبر ملنے پر دوست تیمارداری کے لئے آئے۔ چنانچہ، حضرت سیِّدُنا انس بن مالک، حضرت سیِّدُنا حسن بصری اور دیگر حضرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کہنے لگے: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے! آپ نے تو خود کو ہلاکت میں ڈال دیا ہے، اب آپ میں مجاہدات کی سکت باقی نہیں رہی۔‘‘ جب تک وہ گفتگو کرتے رہے آپ خاموش رہے۔ پھر فرمایا: ’’میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے لئے عاجزی و انکساری اختیار کرتا ہوں تاکہ وہ مجھ پر رحم فرمائے۔‘‘ (۲)
(2214)…حضرت سیِّدُنا ہشام بن حسان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا علاء بن زیاد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَ اد ہر روز صرف ایک روٹی تناول فرماتے، مسلسل روزے رکھنے کے باعث جسم سبز پڑ جاتا، اتنا طویل قیام کرتے کہ تھک کر گرجاتے۔ چنانچہ، حضرت سیِّدُنا انس بن مالک اور حضرت سیِّدُنا حسن بصری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ان کے پاس آئے اور فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کواس قدر شدت سے ان معاملات پر عمل کا پابند نہیں بنایا۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے کہا: ’’میں مملوک بندہ ہوں، لہٰذا جس چیز سے عاجزی و انکساری حاصل ہو میں اسے بجالانے میں کوتاہی نہیں کرتا۔‘‘ (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزھد للامام احمد بن حنبل، حدیث العلاء بن زیاد، الحدیث:۱۴۲۶، ص۲۶۵۔
2…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۵۰۹، العلاء بن زیاد بن مطر العدوی، ج۳، ص۱۶۹۔
3…کتاب الزھد لابن مبارک، باب فضل ذکراللّٰہ، الجزء الثامن، الحدیث:۹۶۵، ص۳۴۳۔