دوسرے کے پیچھے دوڑتی ہوئی آئیں اور سامنے سے گزر گئیں لیکن کسی نے کچھ پروا نہ کی (یعنی عورت اور گدھا وغیرہ نمازی کے سامنے سے گزرجائے تو نماز نہیں ٹوٹتی البتہ بالغ جان بوجھ کر گزرے تو گنہگار ہوگا)۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا عَلاء بن زِیاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد
حضرت سیِّدُنا علاء بن زیاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ خوشخبری سنانے والے، غمزدہ، عبادت کے معاملے میں نمود و نمائش سے بچنے والے، دنیا سے کنارہ کش، آخرت کے لئے ہمہ وقت تیار رہنے والے، اعمالِ صالحہ کا ذخیرہ کرنے والے اور تنہائی پسند تھے۔
علمائے تصوف فرماتے ہیں: بارگاہ الٰہی میں مقام و مرتبہ کے حصول کی خاطر اطاعت کی ذلت کو برداشت کرنے کا نام تصوُّف ہے۔
غم پر غم:
(2211)…حضرت سیِّدُنا حمید بن ہلال عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَلَال بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے ہمراہ حضرت سیِّدُنا علاء بن زیاد عدوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کی عیادت کے لئے گیا، آپ غمزدہ رہنے کی وجہ سے مرض سل (پھیپڑوں کی بیماری) میں مبتلا ہوگئے تھے، ان کے نیچے بچھانے کے لئے ان کی بہن صبح و شام روئی دھنتی تھیں تاکہ آرام و سکون پائیں۔ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے پوچھا: ’’اے علائ! کیا حال ہے؟‘‘ فرمایا: ’’غم پر غم ہے (یعنی کم غمزدہ ہونے کی وجہ سے غمگین ہوں)۔‘‘ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے لوگوں سے فرمایا: ’’چلو، بخدا! ان پر غم کی انتہا ہوچکی ہے۔‘‘ (۲)
ریاکار پر فضل الٰہی:
(2212)…حضرت سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا علاء بن زیاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد نے فرمایا: ’’ایک شخص ہر عمل میں ریاکاری کرتا تھاحتی کہ چلتا تو تکبرانہ انداز میں کپڑوں کو گرد و غبار سے بچانے کے لئے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۱۲۸۹۲، ج۱۲، ص۲۰۱۔
2…الزھد للامام احمد بن حنبل، حدیث العلاء بن زیاد، الحدیث:۱۴۳۳، ص۲۶۶۔