غیب کی خبر بزبان مصطفیٰ:
(2208)…حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن یزید بن جابر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَافِر بیان کرتے ہیں: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ حضور نبی ٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’میری امت میں ایک صلہ نامی شخص ہوگا اس کی شفاعت سے کثیر لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘ (۱)
(2209)…حضرت سیِّدُنا ابن عون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا صلہ بن اشیم عدوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے عرض کی: ’’میرے لئے دعا کیجئے!‘‘ فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تجھے باقی ماندہ زندگی میں نیکی میں رغبت اور جس چیز سے بے نیازی برتی جاتی ہے اس سے کنارہ کشی کی توفیق عطا فرمائے اور ایسا یقین عطا فرمائے جس کا مسکن صرف اسی کی ذات ہو اور دین میں صرف اسی کی طرف رجوع کرے۔‘‘ (۲)
سیِّدُنا صلہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی حدیث
حضرت سیِّدُنا شیخ حافظ ابونُعَیْم احمد بن عبداللّٰہ اصفہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا صلہ بن اشیم عدوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور دیگر کئی صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے ملاقات کا شرف حاصل کیا، ان سے علم سیکھا اور اکتسابِ فیض کیا۔
کوئی سامنے سے گزرے تونماز نہیں ٹوٹتی:
(2210)…حضرت سیِّدُنا ابوصہباء صلہ بن اشیم عدوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں اور بنوعبد المطلب کا ایک شخص دراز گوش (یعنی گدھے) پر سوار ایک مقام سے گزرے، ہم نے پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کھلی فضا میں نماز ادا فرماتے دیکھا تو سواری سے اترے اور آپ کے ساتھ نماز پڑھنے لگے جبکہ دراز گوش کو چرنے کے لئے سامنے کی جانب چھوڑ دیا اور کسی نے کچھ پروا نہ کی، یوں ہی ایک بار آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسجد میں نماز ادا فرمارہے تھے کہ بنوعبدالمطلب کی دو بچیاں ایک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…دلائل النبوۃ للبیھقی، جماع ابواب اخبارالنبی، باب ماروی فی اخبارہ بانہ…الخ، ج۶، ص۳۷۸۔
2…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۴۸۹، صلۃ بن اشیم العدوی، ج۳، ص۱۴۵۔