کم عقل اور عاجز:
(2205)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا صلہ بن اشیم عدوی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’میں نے جب بھی مال کو مال ہونے کی حیثیت سے حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس نے مجھے تھکا دیا سوائے روز کا رزق روز ملنے کے۔ پس میں نے جان لیا کہ یہی میرے لئے بہتر ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! جس بندے کو روز کا رزق روز ملے اور وہ اسے بہتر نہ سمجھتا ہو تو وہ کم عقل اور عاجز ہے۔‘‘ (۱)
(2206)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا صلہ بن اشیم عدوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’میں نے دنیا کو حلال جگہوں سے طلب کیا تو مجھے گزارے کے مطابق رزق حاصل ہوا۔ بہر حال میں رزق کے معاملے میں خود کو تھکاتا نہیں ہوں اور نہ ہی وہ مجھ سے تجاوز کرسکتا ہے۔ میں نے جب یہ معاملہ دیکھا تو اپنے نفس سے کہا: تیرے لئے بقدر کفایت رزق مقرر کیا گیا ہے، لہٰذا اسی پر راضی رہ۔ چنانچہ، وہ راضی ہوگیا حالانکہ کہ وہ راضی ہونے والانہ تھا۔‘‘ (۲)
بڑی مصیبت سے نجات:
(2207)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ایک بھائی کا انتقال ہوگیا، ہم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی، جب اسے قبر میں رکھ کر کپڑا کھینچ لیا گیا تو حضرت سیِّدُنا صلہ بن اشیم عدوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی تشریف لائے اور کپڑے کا ایک کنارہ پکڑ کر پکارا: اے فلاں بن فلاں!(پھر یہ شعر پڑھا:)
فَاِنْ تَنْجُ مِنْہَا تَنْجُ مِنْ ذِیْ عَظِیْمَۃٍ وَاِلَّا فَاِ نِّیْ لَا اَخَالُکَ نَاجِیًا
ترجمہ: اگر تو قبر کے امتحان میں کامیاب ہوگیا تو بڑی مصیبت سے نجات پاگیا ورنہ میں تجھے نجات پانے والا نہیں سمجھتا۔
پھرآپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ خود بھی روئے اور لوگوں کو بھی رلایا۔ (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المصنف لابن ابی شبیۃ، کتاب الزھد، کلام عکرمۃ، الحدیث:۲۸، ج۸، ص۲۹۲۔
2…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۳۰۲۲، صلۃ بن اشیم العدوی، ج۷، ص۹۸۔
3…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۴۸۹، صلۃ بن اشیم العدوی، ج۳، ص۱۴۵۔