Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
370 - 603
بتایا کہ ہم ایک لشکر کے ساتھ کابل کی طرف جہاد کے لئے نکلے حضرت سیِّدُنا صلہ بن اشیم عدوی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ہمارے ساتھ تھے۔ ان کا یہ معمول تھا کہ رات ہوتے ہی لوگوں سے جدا ہوجاتے۔ میں نے کہا: ’’لوگوں میں ان کی عبادت کا چرچا ہے دیکھوں تو سہی یہ کیا عمل کرتے ہیں۔‘‘ چنانچہ، حضرت سیِّدُنا صلہ بن اشیم عدوی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نمازعشا ادا کرکے لیٹ گئے اور لوگوں کے غافل ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ جب سب سوگئے تو آپ اٹھے اور میرے قریب سے ایک جھاڑی کی طرف نکل گئے، میں ان کے پیچھے ہولیا، انہوں نے وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہوگئے، جونہی نماز شروع کی تو اچانک ایک شیر نمودار ہوا اور ان کے قریب آگیا، میں درخت پر چڑھ گیا تاکہ دیکھوں کہ وہ شیر کی طرف متوجہ ہوکر اسے بھگاتے ہیں یا نہیں لیکن آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نماز میں مشغول رہے، جب سجدے میں گئے تو میں نے دل میں کہاکہ شیر اب ان پر حملہ کردے گا لیکن کچھ نہ ہوا۔ آپ نے نماز مکمل کی اور شیر سے مخاطب ہوکر فرمایا: ’’اے درندے! کسی اور جگہ جاکر اپنا رزق تلاش کر۔‘‘ چنانچہ، شیر چنگھاڑتا ہوا چلا گیا۔ پھر آپ صبح تک نماز میں مشغول رہے، پھر بیٹھ گئے اور یوں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد و ثنا بیان کی کہ اس کی مثل میں نے کبھی نہ سنی تھی۔ پھر دعاکی: ’’اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ اَنْ یُّجِیْر  َنِیْ مِنَ النَّارِ اَوْ مِثْلِیْ یَجْتَرِیئُ اَنْ یَّسْاَلُکَ الْجَنَّۃ یعنی اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میں تیری بارگاہ میں سوال کرتا ہوں کہ مجھے جہنم کی آگ سے پناہ عطا فرما، کیا میرے جیسا شخص جرأت کرسکتا ہے کہ تجھ سے جنت کا سوال کرے۔‘‘ پھر لوٹ آئے اور صبح اس حال میں کی کہ گویا ساری رات پہلو کے بل لیٹے رہے اور سو کر گزاری جبکہ رات بھر جاگنے کی وجہ سے صبح میری جو حالت تھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی جانتا ہے۔  (۱)
(2204)…حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا صلہ بن اشیم عدوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرمایا کرتے تھے: ’’میں نہیں جانتا کہ مجھے کس دن زیادہ خوشی حاصل ہوتی ہے اس دن کہ جس دن صبح سویرے ہی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر میں مشغول ہوجاتا ہوں یا وہ کہ جس دن اپنے کسی کام کے لئے نکلوں لیکن ذکرالٰہی کے  باعث پورا نہ کرسکوں۔‘‘  (۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…الزھد لابن مبارک، باب ماجاء فی ذکر عامر بن عبد قیس…الخ، الحدیث:۸۶۳، ص۲۹۵۔
2…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۳۰۲۲، صلۃ بن اشیم العدوی، ج۷، ص۹۷۔