غیبی امداد:
(2201)…حضرت سیِّدُنا حمید بن ہلال عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَلَال سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا صلہ بن اشیم عدوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’سیلاب کے موسم میں ایک مرتبہ میں نہرِتیری کی ایک بستی کی جانب گیا، اپنی سواری پر سوار نہر کے کنارے سارا دن چلتا رہا مجھے کھانے کی کوئی چیز میسر نہ آئی، سخت بھوک کے عالم میں ایک تندرست و توانا شخص سے میری ملاقات ہوئی جو کاندھے پر کچھ اٹھائے ہوئے تھا۔ میں نے وہ چیز اسے نیچے رکھنے کے لئے کہا تو اس نے رکھ دی، دیکھا تو روٹیاں تھیں، میں نے کہا: ’’مجھے اس میں سے کچھ کھلاؤ۔‘‘ اس نے کہا: ’’اس میں خنزیر کی چربی ملی ہوئی ہے اگر آپ کھانا چاہیں تو کھالیں۔‘‘ چنانچہ، میں اسے چھوڑ کر چل دیا۔ پھر ایک اور شخص ملا جو کاندھے پر کھانا اٹھائے ہوئے تھا۔ میں نے کہا: ’’اس میں سے مجھے کچھ کھلاؤ۔‘‘ اس نے کہا: ’’یہ فلاں فلاں کا زادِراہ ہے اگر آپ نے اس میں سے کچھ لے لیا تو میرے لئے باعث ضرر ہوگا۔‘‘ چنانچہ، اسے بھی چھوڑ کر میں آگے چل دیا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! ابھی تھوڑی ہی دور چلا تھا کہ اچانک میں نے اپنے پیچھے پرندے کے پھڑپھڑانے کی آواز سنی مڑ کر دیکھا تو خوبصورت باریک کپڑے میں کوئی چیز لپٹی ہوئی تھی، قریب جاکر دیکھا تو کھجور کے پتوں سے بنی ٹوکری میں تازہ کھجوریں تھیں حالانکہ اس موسم میں روئے زمین پر کہیں تازہ کھجوریں دستیاب نہ تھیں، میں نے کھائیں تو اتنی لذیذ تھیں کہ اس سے زیادہ لذیذ کھجوریں میں نے کبھی نہ کھائی تھیں، پھر پانی پیا اور باقی ماندہ کھجوریں لپیٹ کر رکھ لیں، گٹھلیاں بھی اٹھالیں اور گھوڑے پر سوار ہوگیا۔ حضرت سیِّدُنا اوفی بن دلہم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم بیان کرتے ہیں: ’’میں نے کپڑا ان کی زوجہ کے پاس دیکھا جس میں وہ قرآن پاک لپیٹتی تھیں، پھر وہ کپڑا گم ہوگیا۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ ’’معلوم نہیں اس کپڑے کا کیا ہوا چوری ہوگیا یا گم گیا۔‘‘ (۱)
اے درندے! اپنا رزق کہیں اور تلاش کر!
(3-2202)…حضرت سیِّدُنا حماد بن جعفر بن زید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں: مجھے میرے والد محترم نے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزھد للامام احمد بن حنبل، اخبارعبداللّٰہ بن عمررضی اللّٰہ عنہ، الحدیث:۱۱۵۹، ص۲۲۳۔
الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۳۰۲۲، صلۃ بن اشیم العدوی، ج۷، ص۹۷تا۹۸۔