کیا وہ اپنا سفر طے کر سکیں گے؟‘‘ چنانچہ، ایک دن ان کے پاس سے گزرتے ہوئے یہی بات دہرائی تو ان میں سے ایک نوجوان غفلت سے بیدار ہوگیا اور کہا: ’’اے لوگو! ان کے اس قول کا مصداق ہم ہی ہیں کیونکہ ہم دن میں لہو و لعب میں مشغول رہتے اور رات کو نیند کے مزے لیتے ہیں۔‘‘ چنانچہ، وہ شخص حضرت سیِّدُنا صلہ عدوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کی پیروی میں لگ گیا، ان کے ساتھ بیابان کی طرف جاتا اور عبادت کرتا حتی کہ موت سے ہم آغوش ہوگیا۔ (۱)
(99-2198)…حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا صلہ بن اشیم عدوی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کھانا تناول فرمارہے تھے کہ ایک شخص نے حاضر خدمت ہوکر عرض کی: ’’آپ کا فلاں بھائی قتل کردیا گیا یا فوت ہوگیا۔‘‘ آپ نے اس سے فرمایا: ’’قریب آؤ کھانا کھاؤ، اس کی موت کی خبر ہمیں دے دی گئی ہے۔‘‘ اس نے عرض کی: ’’مجھ سے پہلے آپ کے پاس کوئی نہیں آیا پھر آپ کو کس نے خبر دی؟‘‘ آپ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّہُمۡ مَّیِّتُوۡنَ ﴿۫۳۰﴾ (پ۲۳، الزمر:۳۰)
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے۔ (۲)
سیِّدَتُنا عدویہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہَا کا صبر:
(2200)…حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا صلہ بن اشیم عدوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ایک غزوہ میں شریک تھے، بیٹا بھی آپ کے ہمراہ تھا۔ آپ نے بیٹے سے فرمایا: ’’آگے بڑھو! اور خوب قتال کرو حتی کہ میں تمہیں باعث اجر و ثواب پاؤں۔‘‘ چنانچہ بیٹا قتال کرتے کرتے شہید ہوگیا۔ عورتیں تعزیت کے لئے آپ کی زوجہ محترمہ حضرت سیِّدَتُنا معاذہ عدویہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہَا کے پاس آئیں تو آپ نے انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے فرمایا: ’’اگر تم مجھے بیٹے کی شہادت کی مبارک باد دینے آئی ہو تو مرحبا لیکن اگر کسی اور مقصد کے لئے آئی ہو تو واپس لوٹ جاؤ۔‘‘ (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزھد للامام احمد بن حنبل، اخبار عبداللّٰہ بن عمررضی اللّٰہ عنہ، الحدیث:۱۱۵۸، ص۲۲۳۔
2…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۳۰۲۲، صلۃ بن اشیم العدوی، ج۷، ص۹۸۔
3…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۳۰۲۲، صلۃ بن اشیم العدوی، ج۷، ص۹۹۔