Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
367 - 603
حاضر ہوا تو عرض کی: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے عطا کردہ علم سے مجھے بھی کچھ سکھائیے!‘‘ تو انہوں نے فرمایا: ’’قرآن مجید کی نصیحت قبول کرلو، مسلمانوں کے لئے مخلص ہوجاؤ، کثرت سے دعا مانگا کرو اور فتنوں میں مبتلا ہوکر مقتول نہ بننا کہ کہا جائے: اے آل فلاں کے گمراہ مقتول! بے شک اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ زمانہ فلاں کو مہلت دے یا خنزیر اسے ہلاک کردے۔ نیز ان لوگوں سے بچناجو کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں حالانکہ وہ مومن نہیں بلکہ وہ تو خوارج ہیں۔‘‘  (۱)
مبلغ کو ایسا ہونا چاہئے:
(2195)…حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے، ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا صلہ بن اشیم عدوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اور آپ کے تلامذہ کے پاس سے ایک نوجوان کپڑے گھسیٹتے ہوئے گزرا، تلامذہ نے ارادہ کیا کہ زبانی کلامی اس کی خوب خبر لی جائے۔ حضرت سیِّدُنا صلہ عدوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے اس شخص سے مخاطب ہو کر فرمایا: ’’اے بھتیجے(ٹھہرو)! مجھے تم سے کام ہے۔‘‘ پوچھا: ’’کیا کام ہے؟‘‘ فرمایا: ’’میں پسند کرتا ہوں کہ تم اپنا تہبند اوپر کرلو۔‘‘ اس نے کہا: ’’جی ہاں!‘‘ چنانچہ، اس نے تہبند اوپر کرلیا۔ حضرت سیِّدُنا صلہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے اپنے تلامذہ سے فرمایا: ’’یہ طرز عمل اس سے بہتر ہے جس کا تم نے ارادہ کیا تھا اگر تم اسے برا بھلا کہتے تو جواباً وہ بھی تمہیں برابھلا کہتا۔‘‘  (۲)
(2196)…حضرت سیِّدَتُنا معاذہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا بیان کرتی ہیں کہ ’’حضرت سیِّدُنا صلہ عدوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے شاگرد جب ایک دوسرے سے ملتے تو معانقہ کرتے (یعنی گلے ملتے)تھے۔‘‘  (۳)
(2197)…حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا صلہ بن اشیم عدوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اکثر عبادت کے لئے جنگل و بیان کی طرف جایا کرتے تھے، جب بھی راستے میں لہو و لعب میں مشغول چند نوجوانوں کے پاس سے گرتے تو فرماتے: ’’مجھے ایسے لوگوں کے بارے میں بتاؤ جو سفر کے ارادے سے نکلے ہوں، دن کے وقت منزل کی طرف جانے والے راستے سے کنارہ کش ہوجائیں اور رات میں نیند کے مزے لوٹیں تو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۳۰۲۲، صلۃ بن اشیم العدوی، ج۷، ص۹۶تا۹۷۔
2…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۳۰۲۲، صلۃ بن اشیم العدوی، ج۷، ص۹۷۔
3…سیر اعلام النبلاء، الرقم:۳۳۵، صلۃ بن اشیم العدوی، ج۵، ص۲۰۔