اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ رو دئیے، عرض کی گئی: ’’کیوں رو رہے ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’(مجھے یہ بات رلا رہی ہے کہ) حضور نبی ٔ رحمت، شفیع امت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہم سے عہد لیا تھا کہ دنیا میں تمہارا ساز و سامان اتنا ہو جتنا کہ مسافر کا زادِراہ ہوتا ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا مورق عجلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بیان کرتے ہیں کہ ’’حضرت سیِّدُنا سلیمان فارسی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال کے بعد لوگوں نے ان کے گھر کو دیکھا تو صرف ایک پالان، بستر اور تھوڑا سا سامان پایا جس کی قیمت تقریباً 20 درہم ہوگی۔‘‘ (۱)
باجماعت نماز کی فضیلت:
(2193)…حضرت سیِّدُنا مورق عجلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ مکی مدنی مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’آدمی کا باجماعت نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے 25درجے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔‘‘ (۲)
حضرت سیِّدُنا صِلَہ بن اَشْیَم عَدَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی
حضرت سیِّدُنا ابوالصہباء صلہ بن اشیم عدوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ کتابُ اللّٰہ کی لوگوں کو نصیحت کرنے والے، بندگان خدا سے محبت کرنے والے، حصول ثواب کی نیت سے مصائب پر صبر کرنے والے اور رات کی تاریکی میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا خوب ذکر کرنے والے تھے۔
علمائے تصوُّف فرماتے ہیں: اپنے معاملات کی نگرانی کرتے اور احتساب کا یقین رکھتے ہوئے نیک اعمال کی بجاآوری میں خوب کوشش کرنے اور کمربستہ ہونے کا نام تصوُّف ہے۔
(2194)…حضرت سیِّدُنا ابوسلیل عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَلِیْل بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میں حضرت سیِّدُنا صلہ عدوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے عطا کردہ علم سے مجھے بھی کچھ سکھائیے!‘‘ فرمایا: آج تم نے میری مثل سوال کیا ہے کہ جب میں حصول علم کے لئے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی خدمت میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المجعم الکبیر، الحدیث:۶۱۶۰، ج۶، ص۲۶۱، باختصار۔
2…المسند للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۳۵۶۴-۳۵۶۷، ج۲، ص۹-۱۰۔