سیِّدُنا مُوَرِّق عِجْلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی
سے مروی اَحادیث
حضرت سیِّدُنا شیخ حافظ ابونُعَیْم احمد بن عبداللّٰہ اصفہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا مورق عجلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی نے حضرت سیِّدُنا ابوذر، حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی اور دیگر کئی صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے بہت سی مرسل احادیث روایت کی ہیں۔ چند مرویات درج ذیل ہیں:
جنگلوں کی طرف نکل جاتے:
(2191)…حضرت سیِّدُنا مورق عجلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی حضرت سیِّدُنا ابوذر غفاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔکریم، رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے (۱)، آسمان چرچرا رہا ہے اور اس کا حق ہے کہ چرچرائے، اس کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! آسمانوں میں چار انگل برابرجگہ بھی نہیں کہ جہاں کوئی فرشتہ بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز نہ ہو۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنستے اور زیادہ روتے اور بیویوں سے بستروں پر لذت حاصل نہ کرتے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ لیتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل جاتے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! مجھے تو یہ پسند ہے کہ میں جنت کا ایک درخت ہوتا جسے کاٹ دیا جاتا۔‘‘ (۲)
جتنا کہ مسافر کا زادِراہ:
(2192)…حضرت سیِّدُنا مورق عجلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے مروی ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا سلیمان فارسی رَضِیَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد7، صفحہ154 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: معلوم ہوا کہ حضور انور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی نگاہ غیبی چیزیں دیکھتی ہے اور حضور (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کے کان غیبی آوازیں سنتے ہیںجس نگاہ سے اللّٰہ تعالیٰ ہی نہ چھپا اس سے اور کیا چیز چھپے گی۔
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
مالاترون میں ما عام ہے ہرغیبی چیز حضور (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) پر ظاہر ہے۔
2…سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب فی قول النبی:لوتعلمون مااعلم …الخ، الحدیث:۲۳۱۹، ج۴، ص۱۴۰۔