حاجت یہ تھی کہ)میں فضول باتیں کرنا چھوڑ دوں۔‘‘ (۱)
(2187)…حضرت سیِّدُنا ابواشہب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مورق عجلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی نے فرمایا: ’’میرے پاس زکوٰۃ کا مال کبھی بھی نہیں پایا گیا۔‘‘ (۲)
مال جمع نہ فرماتے:
(2188)…حضرت سیِّدُنا جعفر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مورق عجلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی تجارت کرتے تھے جس سے انہیں کافی مال حاصل ہوتا لیکن ہفتہ بھر بھی آپ کے پاس نہ رہتا یوں کہ جب اپنے بھائی سے ملتے تو اسے تین، چار یا پانچ سو (درہم) دے دیتے اور فرماتے: ’’انہیں اپنے پاس رکھ لو شاید تمہیں ان کی ضرورت پیش آئے۔‘‘ کچھ عرصہ بعد جب دوبارہ اس سے ملاقات ہوتی تو فرماتے : ’’(مزید رقم لے لو) شاید تمہیں اس کی حاجت پڑے۔‘‘ وہ کہتا: ’’مجھے اس کی بالکل ضرورت نہیں۔‘‘ فرماتے: ’’بخدا! میں اسے کبھی واپس نہیں لوں گا۔ تمہیں اس کی ضرورت پڑسکتی ہے (اس لئے اسے اپنے پاس ہی رکھو)۔‘‘ مروی ہے کہ ’’حضرت سیِّدُنا مورق عجلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی کوئی چیز کسی کو بطور صدقہ دینا ناپسند کرتے تھے۔‘‘ (۳)
(2189)…حضرت سیِّدُنا سعید جریری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مورق عجلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی نے فرمایا: ’’اگر لوگ ہمارے متعلق وہ باتیں جان لیںجو ہماری قوم جانتی ہے تو ہمارے پاس بیٹھنا بھی گوارہ نہ کریں۔‘‘
(2190)…حضرت سیِّدُنا عاصم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم سے مروی ہے کہ ’’حضرت سیِّدُنا مورق عجلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی اپنا نفقہ اپنے سر کے نیچے پا لیتے تھے۔‘‘ (۴)
تُوْبُوْااِلَی اللّٰہ! اَسْتَغْفِرُاللّٰہ
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزھد للامام احمد بن حنبل، اخبارمورق العجلی، الحدیث:۱۷۶۲، ص۳۰۱، بتغیرقلیل۔
2…الزھد للامام احمد بن حنبل، اخبارابی العالیۃ، الحدیث:۱۷۵۶، ص۳۰۹۔
3…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۵۰۶، مورق بن المشمرج العجلی، ج۳، ص۱۶۸۔
4…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۵۰۶، مورق بن المشمرج العجلی، ج۳، ص۱۶۸۔